نجاسات اور پاکی

بورنگ کے پانی کا حکم

فتوی نمبر :
48041
| تاریخ :
2021-11-08
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بورنگ کے پانی کا حکم

بور میں پانی کا رنگ و بو تبدیل ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بورنگ کے پانی کا رنگ یا بو نجاست کی وجہ سے تبدیل نہ ہوا ہو، بلکہ کسی اور پاک چیز کے مل جانے کی وجہ سے اس میں تبدیلی آجائے، تو اس سے وہ پانی ناپاک نہ ہوگا، لہٰذا اس کا استعمال جائز ہے، تاہم اگر نجاست کی وجہ سے پانی میں بدبو آ رہی ہو یا اس کا رنگ تبدیل ہو چکا ہو ،تو وہ پانی ناپاک ہے، لہٰذا اس کا استعمال شرعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (وبتغير أحد أوصافه) من لون أو طعم أو ريح (ينجس) الكثير ولو جاريا إجماعا، أما القليل فينجس وإن لم يتغير خلافا لمالك (لا لو تغير) بطول (مكث) اھ (1/ 185)
وفی الفتاوى الهندية: والفتوى في الماء الجاري أنه لا يتنجس ما لم يتغير طعمه أو لونه أو ريحه من النجاسة كذا في المضمرات اھ (1/ 17) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ابوبکر عثمان غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 48041کی تصدیق کریں
0     1398
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات