احکام نماز

سنتِ مؤکدہ اور غیر مؤکدہ پڑھنے میں فرق

فتوی نمبر :
475
| تاریخ :
2004-10-24
عبادات / نماز / احکام نماز

سنتِ مؤکدہ اور غیر مؤکدہ پڑھنے میں فرق

سنتِ مؤکدہ اور غیر مؤکدہ پڑھنے میں کیا فرق ہے ، یعنی دونوں کے پڑھنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ اگر غلطی سے آپ نفل کی نیت سے پڑھ لیں اور نفل ادا کرلیں ، جبکہ سنت باقی ہوں تو اس صورت میں کیا بعد میں دوبارہ سنت ادا کی جا سکتی ہے یا پھر چھوڑ دی جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نیت کے اعتبار سے سنتِ مؤکدہ ، غیر مؤکدہ اور نفل نماز میں کوئی فرق نہیں ایک دوسرے کی نیت ، مطلق نماز اور نفل کی نیت سے بھی ادا کر سکتے ہیں ، جبکہ تعیین بہتر ہے۔
البتہ سنتِ غیرمؤکدہ یا چار رکعت نوافل کی ادائیگی میں بہ نسبت عام نمازوں کے قدرے فرق ہے ، وہ یہ کہ ان میں تشہد کے بعد درود شریف اور دعا کا اہتمام مستحب ہے ، اور دیگر میں نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و كفى مطلق نية الصلاة) و إن لم يقل لله (لنفل و سنة) راتبة (و تراويح) على المعتمد اھ(1/ 417)۔
و فی حاشية ابن عابدين تحت : (قوله و سنة) و لو سنة فجر ، حتى لو تهجد بركعتين ثم تبين أنها بعد الفجر نابتا عن السنة اھ(1/ 417)۔
و فی الدر المختار : (و لا يزيد) في الفرض (على التشهد في القعدة الأولى) إجماعا اھ (1/ 510)۔
و فی حاشية ابن عابدين تحت : (قوله ولا يزيد في الفرض) أي و ما ألحق به كالوتر و السنن الرواتب اھ(1/ 510)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اورنگزیب دوست محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 475کی تصدیق کریں
0     1010
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات