احکام نماز

کسی نجی ادارے کا ملازمین کے لۓ نماز کی ادائیگی اور پابندی کا لائحہ عمل بنانا

فتوی نمبر :
47265
| تاریخ :
2021-09-09
عبادات / نماز / احکام نماز

کسی نجی ادارے کا ملازمین کے لۓ نماز کی ادائیگی اور پابندی کا لائحہ عمل بنانا

السلام علیکم !میں ایک ادارے میں عرصہ دو سال سے ملازم ہوں ، جہاں دفتری اوقات صبح ۹ بجے سے شام ۳۰: ۵ تک ہیں؟ اس دوران ظہر اور عصر کا وقت آتا ہے تو ادارے کی ہدایت کے مطابق تمام ملازمین ظہر اور عصر باجماعت ادا کرتے ہیں ، پچھلے ایک ماہ سے ادارے نے ایک سلسلہ شروع کیا ہے ، جس کے تحت ملازمین کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور ہر گروہ کے ارکان سے اس گروہ کے امیر کے ذریعے اس کی تمام (۵) نمازوں کی بابت پوچھا جاتا ہے کہ اس کی نمازوں کے صور تِ حال کیا ہے؟ بندہ ناچیز کے محدود علم کے مطابق نماز اللہ رب العالمین اور اس کے بندے کے درمیان کا معاملہ ہے ، تو کیا ادارہ اپنے ملازمین سے دفتری اوقات کے علاوہ ان کی ذاتی مصروفیات بالخصوص نمازوں وغیرہ کی بابت پوچھ گچھ کرنے کا اختیار رکھتا ہے ، اس سلسلے میں شرعی حکم اور اس کی دلیل سے متعلق راہ نمائی فرمادیں ؟ شکریہ
نوٹ : واضح رہے کہ سوال دفتری اوقات کے دوران ادارے کی جانب سے نمازوں کی پابندی سمیت دیگر امر بالمعروف کے کاموں کی تاکید کے متعلق نہیں ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نمازوں کی ادائیگی اور اس کی پابندی اگر چہ بندوں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا معاملہ ہے ، اور کسی عام شخص یا عام ادارے کو کسی شخص سے اس کے متعلق پوچھ گچھ اور تفتیش کا اختیار حاصل نہیں ، لیکن اگر مذکور ادارے نے اپنے ملازمین کے لۓ نماز جیسی اہم عبادت کے متعلق ایک لائحہ عمل تیار کیا ہے تو یہ ایک مستحسن عمل ہے ، لہٰذا سائل یا دیگر ملازمین کے لۓ اس کی مخالفت کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیۓ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عباس مسکین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 47265کی تصدیق کریں
0     567
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات