جناب مفتی صاحب! مجھ کو گھر خریدنے کے لئے استخارہ کروانا ہے کہ میں جو گھر خرید رہا ہوں، وہ میرے لئے صحیح ہے یا نہیں؟ خریدنے والا گھر چاپل اپارٹمنٹ میں ہے، جو کہ صفورا گوٹھ سے آگے پڑتا ہے ۔ جزاک الله خیراً !
واضح ہو کہ استخارہ دوسروں سے نہیں کروایا جاتا، بلکہ اگر کسی کام کے بارے میں یہ معلوم کرنا ہو کہ اس کا کرنا بہتر ہے یا چھوڑنا، تو اس کیلئے خود استخارہ کرنا چاہیے۔
جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کہ آدمی دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سےپڑھے، نیت یہ کرے کہ میرے سامنے دو راستے ہیں، اس میں سے جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو اس کے بارے میں میری رہنمائی کر دی جائے، پھر دو رکعت نفل پڑھے،اور نماز کے بعد یہ دعا پڑھے :-
”اللهمَّ إنِّي أَسْتَخِيْرُكَ بعِلْمِكَ، وأسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْألُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيْمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ، اللهمَّ إنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لَيْ فِي دِيْنِيْ، وَمَعَاشِيْ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ وَعَاجِلِه، وَيَسِّرْهُ لِیْ، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيْه، وَإنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ، واٰجِلِه، فَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ،وَاقْدِرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِه.“
اور جب ”هٰذَا الْأَمْرَ “ پر پہنچے( جس لفظ پر لکیر بنی ہے) تو اس کے پڑھتے وقت اسی کام کا دھیان(خیال) کرلے جس کے لئے استخارہ کرنا چاہتا ہے، اس کے بعد پاک وصاف بچھونے پر قبلہ کی طرف منہ کر کے با وضو سو جائے،جب سو کر اٹھے اس وقت جو بات دل میں مضبوطی سے آوے، وہی بہتر ہے، اسی کو کرنا چاہیے، کہ یہی استخارہ ہے۔
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0