نجاسات اور پاکی

جنابت کی حالت میں کسی چیز کو چھونا

فتوی نمبر :
46477
| تاریخ :
2021-06-30
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

جنابت کی حالت میں کسی چیز کو چھونا

میری عمر ۲۳ سال ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے احتلام ہوجائے تو کیا میں ناپاکی کی حالت میں اپنے موبائل کو چھو سکتا ہوں، یا میرا موبائل یا جو بھی میں چھوؤں گا تو وہ بھی ناپاک ہوجائے گا؟ نیز اگر مجھے احتلام ہوجانے کے بعد صبح اٹھتا ہوں اور میں اپنے ہاتھ اور منہ دھوکر تولیہ سے ہاتھوں کو خشک کرتا ہوں تو کیا ناپاکی کی حالت میں اپنے ہاتھوں کو خشک کرنے سے میرا تولیہ بھی ناپاک ہوجائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ محض ناپاکی کی حالت میں کسی چیز کو چھونے سے وہ چیز ناپاک نہیں ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر احتلام کے بعد سائل کے ہاتھوں پر ناپاکی لگی ہوئی نہ ہو، تو ناپاکی کی حالت میں موبائل یا کسی اور چیز کو چھونے سے وہ چیز ناپاک نہ ہوگی، اسی طرح اگر احتلام کے بعد ہاتھ منہ کو پانی سے دھونے کے بعد اگر تولیہ کے ساتھ خشک کیا جائے، تو اس سے تولیہ ناپاک نہ ہوگا، تاہم احتلام ہوجانے کے بعد جلد از جلد غسل کرکے پاکی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: (کتاب الطھارة) الکلام فی ھذا الکتاب فی الأصل، فی موضعین: أحدھما، فی تفسیر الطھارةو فی بیان أنواعھا (أما) تفسیرھا: فالطھارة لغة، وشرعاً ھی النظافة، والتطہیر، والتنظیف، وھو إثبات النظافة فی المحل، وأنھا صفة تحدث ساعة فساعة، وإنما یمتنع حدوثھا بوجود ضدھا، وھو القدر، فإذا زال القدر، وامتنع حدوثہ بإزالة العین القذرة، تحدث النظافة، فکان زوال القذر من باب زوال المانع من حدوث الطھارة، لا أن یکون طھارة، وإنما سمی طھارة توسعا لحدوث الطھارة عند زوالہ. اھـ (ج۱، ص۳)
وفی الدر المختار: (یجوز رفع نجاسة حقیقیة عن محلھا) ولو إناء أو مأکولا علم محلھا أو لا (بماء.... )الخ (ج۱، ص۳۰۹) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی احمد یوسف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 46477کی تصدیق کریں
0     1070
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات