مباحات

آف لائن بائیکیا چلانا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
46475
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آف لائن بائیکیا چلانا کیسا ہے؟

آف لائن بائیکیا چلانا کیسا ہے؟ اس کی آمدنی جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کوئی شخص کمپنی سے معاہدہ کرنے کے بعد بائیکیا ایپ کے ذریعے کسٹمر تلاش کرلے، اور پھر کمپنی کے توسط کے بغیر اس سے از خود معاملہ کرے (آف لائن بائیکیا) تو اس کے لئے اگر چہ کمپنی سے طے شدہ کمیشن کے علاوہ بقیہ رقم لینا جائز ہوگا، لیکن اس کا اس طرح کا معاملہ کرنا کمپنی کے ساتھ دھوکہ دہی اور معاہدہ کے خلاف ورزی کی وجہ سے شرعاً جائزنہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح مسلم: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي» (1/ 99 رقم الحدیث 102)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا، إِلَّا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ» (" إِلَّا مَنِ اتَّقَى ") ، أَيِ: اللَّهَ - تَعَالَى - بِأَنْ لَمْ يَرْتَكِبْ كَبِيرَةً وَلَا صَغِيرَةً مِنْ غِشٍّ وَخِيَانَةٍ، أَيْ: أَحْسَنَ إِلَى النَّاسِ فِي تِجَارَتِهِ، أَوْ قَامَ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَعِبَادَتِهِ (5/1911 دقم الحدیث 2799)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 46475کی تصدیق کریں
0     420
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات