آف لائن بائیکیا چلانا کیسا ہے؟ اس کی آمدنی جائز ہے یا نہیں؟
اگر کوئی شخص کمپنی سے معاہدہ کرنے کے بعد بائیکیا ایپ کے ذریعے کسٹمر تلاش کرلے، اور پھر کمپنی کے توسط کے بغیر اس سے از خود معاملہ کرے (آف لائن بائیکیا) تو اس کے لئے اگر چہ کمپنی سے طے شدہ کمیشن کے علاوہ بقیہ رقم لینا جائز ہوگا، لیکن اس کا اس طرح کا معاملہ کرنا کمپنی کے ساتھ دھوکہ دہی اور معاہدہ کے خلاف ورزی کی وجہ سے شرعاً جائزنہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي» (1/ 99 رقم الحدیث 102)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا، إِلَّا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ» (" إِلَّا مَنِ اتَّقَى ") ، أَيِ: اللَّهَ - تَعَالَى - بِأَنْ لَمْ يَرْتَكِبْ كَبِيرَةً وَلَا صَغِيرَةً مِنْ غِشٍّ وَخِيَانَةٍ، أَيْ: أَحْسَنَ إِلَى النَّاسِ فِي تِجَارَتِهِ، أَوْ قَامَ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَعِبَادَتِهِ (5/1911 دقم الحدیث 2799)۔