مباحات

ایزی لوڈ یا ایزی پیسہ وغیرہ پر اضافی چارجز لینا

فتوی نمبر :
46473
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ایزی لوڈ یا ایزی پیسہ وغیرہ پر اضافی چارجز لینا

میرے کچھ سوالات ہیں:
1- میں موبائل کمپنیوں کے ایزی لوڈ کا کام کرتا ہوں، جس پر مجھے وہ فکس کمیشن دیتے ہیں اس پر اضافی چار جز لینا جائز ہے ؟
2 - میں ایزی پیسہ اور موبی کیش کا بھی کام کرتا ہوں ،جس کے ذریعے موبائل اکاؤنٹ اور شناختی کارڈ پر رقم منتقل کی جاتی ہے، جس پر کمپنی سروس چار جز لیتی ہے، اور کمیشن کم ملتے ہیں ؟ کسٹمر سے اضافی چار جز لینا جائز ہے ؟
3- بجلی ٹیلیفون کے بل جمع کرنا جائز ہے، اور بل کی تاریخ گزرنے کے بعد جرمانے کے ساتھ جمع کرنا کیسا ہے؟ اور اس پر10 روپے چار جز لینا کیسا ہے ؟
نوٹ: ہم اپنے پیسوں پر کاروبار کرتے ہیں ؟ کمپنی ہم سے پہلے رقم وصول کرتے ہیں ؟ اور ہمارے کوئی سکیورٹی بھی نہیں ہے اور کمپنیوں نے اپنے کمیشن کم کر دی ہے تو اس کمیشن کو نہ لینے کے برابر ہے جس پر ہم اضافی چار جز لیتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل چونکہ ایزی لوڈ، ایزی پیسہ، موبی کیش، بجلی اور ٹیلفون بل جمع کرانے کیلئے متعلقہ کمپنیوں کی طرف سے نمائندہ ہے، جس کی بناء پر مذکور کمپنیوں کی طرف سے سائل کو طے شدہ کمیشن بھی ملتا ہے، لہٰذا اگر متعلقہ کمپنیوں کی طرف سے اپنے نمائندہ (ریٹیلر) کیلئے کسٹمر سے اضافی چار جز وصول کرنے کی اجازت نہ ہو، تو سائل کیلئے صارفین سے ایزی لوڈ ، ایزی پیسہ، موبی کیش، یا بجلی وغیرہ کے بل جمع کرانے پر اضافی چار جز وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، تاہم بلوں کو بر وقت جمع نہ کرانے کی صورت میں اگر حکومت کی طرف سے کوئی جرمانہ مقرر ہو، تو سائل کیلئے اس اضافی رقم کیسا تھ بل جمع کرانے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي شرح المجلة : المادة /19 : لا ضرر ولا ضرار - اھ (53) -
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى اھ (۶/ ۶۹) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سيد محمد بلال سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 46473کی تصدیق کریں
0     1485
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات