السلام علیکم
ایک کمپنی میں آن لائن کام کر کے پیسے ملتے ہیں اس کمپنی میں لڑکی بن کر آن لائن ورکنگ کرنی ہوتی ہے۔ جیسے ان کی پروڈکٹ وغیرہ سیل کرنا وغیرہ۔ اس کام میں لڑکیوں والی ڈریسنگ کر کے کام کرنا ہوتا ہے۔ بے روزگاری کے اس دور میں اس کمپنی میں کام کر کے اچھے پیسے بن جاتے ہیں۔
برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ کام کے دوران لڑکیوں والی ڈریسنگ کی ہو اور نماز کا ٹائم ہو جائے تو کیا لڑکیوں والے گیٹ اپ میں ہی نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟ کیوں کہ اگر نہ پڑھی جائے تو پھر نماز قضاء ہونے کا خدشہ ہے۔ تو کیا اسی حالت میں نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
واضح ہو کہ مرودوں کا عورتوں کی ہیئت اختیار کرنا اور عورتوں کا مردوں کی ہیئت اختیار کرناشرعاً ناجائز اور گناہ ہے، آپ ﷺنے ایسے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے، لہذا سائل کو اگر دورانِ ملازمت لڑکیوں کی ہیئت اختیار کرنا لازم ہو تو سائل کو چاہیے کہ اس کے علاوہ کوئی اور روزگار اس طرح تلاش کرے جیسے کوئی بےروزگار آدمی تلاش میں رہتا ہے ، تاہم جب تک کوئی اور مناسب روزگار میسر نہ ہو اس کو کرتے رہے اور جب کوئی اور روزگار مل جائے تو اس کو اختیار کرے ، جبکہ اس دوران اگر نماز کے لئے کپڑے تبدیل کیے جا سکتے ہوں تو کپڑے تبدیل کر کے اس میں نماز کی ادائیگی کرنی چاہیے، البتہ اگر کپڑے تبدیل کرنے کا انتظام نہ ہو اور نماز قضاء ہونے کا اندیشہ ہو تو انہی کپڑوں میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
ففي سنن الترمذي: عن ابن عباس قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهات بالرجال من النساء والمتشبهين بالنساء من الرجال۔ (105/5)-