کیا فرماتے ہیں علماءِ دینِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید دیسی گھی کا کاروبار کرتا ہے، زید کے پاس تین درجہ کے گھی ہوتے ہیں :(1) خالص گھی (2) خالص گھی کے ساتھ ڈالڈ املا کر بنائی جاتی ہے (3) ڈالڈا (پکوان گھی) میں رنگ اور ذائقہ ملا کر بنائی جاتی ہے، زید گاہک کو درجہ دوم اور درجہ سوم کی صحیح نوعیت بتاتا ہے کہ یہ خالص نہیں، بلکہ ملاوٹ شدہ یا با لکل ڈالڈا ہے، زید پر درجہ دوم اور درجہ سوم بنانے کا باعث گاہکوں کی فرمائشیں ہوتی ہیں، کیونکہ گاہک سستے دام کا فائدہ اٹھاتا ہے، شرعی لحاظ سے زید کا کاروبار جائز ہے یا نا جائز ؟
زید اگر لوگوں کی فرمائش پر تین قسم کے گھی تیار کرتا ہو، اور ہر ایک کی نوعیت بیان کر کے اس درجے کی قیمت کے مطابق گاہک کو فروخت کرتا ہو تو یہ جائز اور درست ہے۔
كما في رد المحتار: (لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن، لأن الغش حرام) (قوله؛ لأن الغش حرام ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به. اه قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ قلت: وفيه نظر؛ لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة اھ (۵/ 47)-
وفي البحر: كتمان عيب السلعة حرام وفي البزازية وفي الفتاوى إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته قال الصدر لا نأخذ به اهـ وقيده في الخلاصة بأن يعلم به. (۶/38)-