محترم مفتی صاحب! اگر میں ایک کمرہ میں نماز پڑھ رہا ہوں ، اور میری والدہ دوسرے کمرے سے مجھے آواز دے رہی ہو ، جبکہ انہیں نہیں معلوم کہ میں نماز کی حالت میں ہوں ، تو کیا اس صورت میں مجھے نماز توڑنا چاہیۓ ؟
اگر نفل نماز کے دوران یہ صورت پیش آجائے تو اسے توڑ کر والدہ کی بات پر جواب دینا اور بعد میں اس کی قضاء لازم ہے ، جبکہ فرائض و واجبات میں ایسا کرنا جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے ، الا یہ کہ والدہ اسے کسی مصیبت میں مدد کے لۓ پکار رہی ہو تو اس صورت میں فرض نماز بھی توڑنے کی گنجائش ہے۔
فی الدر المختار : لا قطعها بنداء أحد أبويه من غير استغاثة و طلب إعانة لأن قطعها لا يجوز إلا لضرورة. و قال الطحاوي : هذا في الفرض ، و إن كان في نافلة إن علم أحد أبويه أنه في الصلاة و ناداه لا بأس أن لا يجيبه ، و إن لم يعلم يجيبه. اهـ. و فی رد المحتار : (قوله إلا في النفل) أي فيجيبه وجوبا و إن لم يستغث اھ(1/ 655)۔