میری بیوی کو اپنی شرمگاه روز چسوانا بہت پسند ہے ، میں منع کروں تو وہ کہتی ہے کہ عورت کا پانی پاک ہے، اگر نا چوسوں تو چھوڑ کر جانے کی دھمکیاں دیتی ہے ، اس لئے روز چوستا ہوں، اس پر رہنمائی فرمائیں۔
میاں بیوی میں سے کسی کا بھی دوسرے کی شرمگا ہ کو چوسنا انتہائی نامناسب ، مکروہ اور خلافِ فطرت عمل ہے ، نیز خواتین کی شرمگاہ سے نکلنے والی رطوبت بھی ناپاک ہوتی ہے ، لہذا سائل کی بیوی کا مذکور عمل کرنے پر اصرار کرنا اور نہ کرنے کی صورت میں گھر چھوڑ کر جانے کی دھمکیاں دینا درست نہیں ، جس سے اجتناب کرنا چاہیئے اور سائل کو بھی بیوی کے مطالبے کے مطابق عمل کرنےکے بجائے اسے مناسب طریقے سے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
کمافی رد المحتار : تحت (قوله : برطوبة الفرج) أي : الداخل بدليل قوله أولج و أما رطوبة الفرج الخارج فطاهرة اتفاقا اھ و في منهاج الإمام النووي رطوبة الفرج ليست بنجسة في الأصح اھ (1 /313)۔
و فی المحیط البرھانی : اذا أدخل الرجل ذکرہ فم امرأته فقد قیل : یکرہ لأنه موضع قراءة القرآن ، فلایلیق به ادخال الذکر فیه و قد قیل بخلافه اھ (5/ 408)۔