احکام نماز

نامکمل غسل کے بعد پڑھی گئی نمازوں کا حکم

فتوی نمبر :
44388
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

نامکمل غسل کے بعد پڑھی گئی نمازوں کا حکم

اگر غسل کرنے کے بعد خیال محسوس ہوکہ پتہ نہیں جسم کے فلاں حصے تک پانی پہنچا ہے یا نہیں ؟ اور بار بار یہ خیال آئے تو کیا اس کو دوبارہ دھونا چاہیئے؟اور اگر اس کو دوبارہ دھونے میں اور غسل کے درمیان کچھ نمازیں بھی پڑھ لی ہوں ، تو کیا ان نمازوں کا اعادہ کرنا بھی ضروری ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واجب غسل کرنے کے بعد اگر جسم کے کسی حصہ تک پانی کے نہ پہنچنے کا یقین یا غالبِ گمان ہوجائے ، تو ایسی صورت میں اس جگہ کو دھونا ضروری ہے اور ایسی صورت میں غسل کرنے اور دوبارہ دھونے کے درمیان مین جتنی نمازیں پڑھی تھیں، اس کا اعادہ ضروری ہے ، البتہ اگر غسل کے بعد جسم کے کسی حصہ تک پانی کے نہ پہنچنے کا محض شک ہو تو اس جگہ کو دوبارہ دھونا ضروری نہیں اور نہ ہی اس دوران پڑھی گئی نمازوں کو دہرانا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : و لو علم أنه لم يغسل عضوا و شك في تعيينه غسل رجله اليسرى ؛ لأنه آخر العمل و لو أيقن بالطهارة و شك بالحدث أو بالعكس أخذ باليقين و لو تيقنهما و شك في السابق فهو متطهر اھ (1/150)۔
کما فی الفتاوی الھندیة : (و مما يتصل بذلك مسائل الشك) في الأصل من شك في بعض وضوئه و هو أول ما شك غسل الموضع الذي شك فيه فإن وقع ذلك كثيرا لم يلتفت إليه هذا إذا كان الشك في خلال الوضوء فإن كان بعد الفراغ من الوضوء لم يلتفت إلى ذلك و من شك في الحدث فهو على وضوئه و لو كان محدثا فشك في الطهارة فهو على حدثه و لا يعمل بالتحري ، كذا في الخلاصة اھ (1/13)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 44388کی تصدیق کریں
0     721
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات