کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام پرائز بانڈ کے شرعی حکم کے بارے میں ایک جاننے والے صاحب نے کسی مفتی کا یہ فتوی اس کے جواز کی تو جیح کے ساتھ دیا ہے کہ یہ ایک اسکیم کے ساتھ ہوتی ہے، یہ پیسہ اسٹیٹ بینک کی اس برانچ میں جمع ہوتا ہے ،جو ایک مخصوص مقصد کے لیے خرچ کیا جاتا ہے، جیسے امداد باہمی یا دوسرے کی داد رسی کے نام پر ہے ،اگر زید اور بکر نام کے دو لوگ بونڈز خریدتے ہیں، ان میں سے بکر کے نام کا بانڈ نکل آیا ۔ فرض کیا کہ بانڈ کی قیمت سو روپے تھی ،اور انعام نکلا ایک لاکھ اور باقی لوگوں کی رقم ڈوبتی تو نہیں ،وہ جب چاہیں اپنی رقم واپس لے سکتے ہیں ،اور بغیر کسی محنت کے حاصل ہونے کا جواب یہ ہیکہ یہ انعام اور ہدیہ کے حکم میں میں ہے، جو بغیر محنت کے ملتا ہے۔ والسلام!
پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید وفروخت نہیں ہوتی، بلکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دی جاتی ہے درحقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے ،وہ سود ہوتا ہے ۔ اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر پرائز بانڈ والے شخص سے اس کے دیئے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی، اگر وہ ایسا نہ کرے تو انعامی بانڈز رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ بلکہ وہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتے ہیں، چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈ کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے، جس کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں جب چاہیں لے سکتے ہیں ۔
اب یہ بھی سمجھ لیجئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورت انعام جو کچھ ملتا ہے ،وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث اور فقہ کی روشنی میں بلاشبہ ناجائز اور سود ہے، اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے۔ جتنے روپے کا انعامی بانڈز(پرائز بانڈز) ہے، اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں زائد نہیں، اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈز پر ملنے والے انعام کی رقم حاصل کر لی ہو تو چونکہ وہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے (اور مال حرام کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا مالک معلوم ہو تو اسے پہنچانا ضرور ی ہے، اگر اصل مالک معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچانا متعذر ہو تو اسے اصل مالک کی طرف سے بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے) لہٰذا وہ رقم صدقہ کر دی جائے۔
وفي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166) ۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اهـ (5/ 166) واللہ أعلم بالصواب!
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0