احکام نماز

جسمانی معذور لڑکی کے لئے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
43559
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

جسمانی معذور لڑکی کے لئے نماز کا حکم

ایک معذور لڑکی جس کی عمر تقریباً 16 سال ہے ، چل پھر نہیں سکتی ، باتھ روم نہیں جا سکتی ، باتوں میں کافی اٹکتی ہے ، کمرے میں ہی پاٹ پر پیشاب وغیرہ کرتی ہے اور اس کی ماں ہی اس کی یہ خدمت کرتی ہے یعنی اس کو صاف کرتی ہے ، تو کیا اس صورت میں بھی اس پر نماز پڑھنا فرض ہے ؟ اور اگر فرض ہے تو کس طرح نماز پڑھے؟وہ اپنے کپڑوں کو صاف ہرگز نہیں کرسکتی ، نماز کا سبق سکھانے کی کوشش کی گئی ، مگر نہیں سیکھ سکتی اور ابھی تک نماز نہیں پڑھی ، تاہم روزہ رکھ سکتی ہے ، مگر پورا دن فریاد کرتی ہے ، ہاتھ پاؤں بڑے نازک ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور لڑ کی اگر بالغہ ہو اور اس کے ہوش وحواس بھی ٹھیک ہو ں ، تو اس پر نماز فرض ہے ، مذکورہ لڑکی اگر خود اپنے کپڑے پاک نہ رکھ سکتی ہو ، لیکن اس کی معاونت کرنے والی کوئی خاتون ( والدہ وغیرہ) ہو تو اس کے ذریعہ پاکی حاصل کرنی چاہیئے ، جبکہ نماز کا طریقہ اور سورتِ فاتحہ وغیرہ سیکھنا بھی لازم ہے اور جب تک مذکور لڑ کی مکمل نماز نہیں سیکھ لیتی ، اس وقت تک ہر ہر رکعت میں تین مرتبہ تسبیح پڑھنے سے بھی نماز ادا ہو جائے گی ، لیکن جلدسے جلد نماز سیکھنے کی کوشش میں لگے رہنا اس پر لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار : و منها القيام في فرض لقادر عليه و على السجود فلو قدر عليه دون السجود ندب ايماءه قاعدا و كذا من يسيل جرحه لو سجد و قد يتحتم القعود كمن يسيل جرحه اذا قام أو يسلسل بوله او يبدو ربع عورته أو يضعف عن القراءة اصلاً (الیٰ قوله)و منها القراءة لقادر عليها اھ (445/1)۔
و فيه ايضاً : و ان تعذر القعود و لو حكما او ما مستلقياً على ظهره و رجلاه نحو القبلة (الیٰ قوله) او على جنبه الايمن أو الايسر و وجهه اليها و الأول أفضل على المعتمد و ان تعذر الايماء براسه و كثرت الفوائت بان زادت على يوم و ليلة سقط القضاء عنه اهـ (99/2)۔
و فيه ايضاً : مريض تحته ثياب نجسة و كلما بسط شيئاً تنجس من ساعته صلى على حاله و كذا لو لم يتنجس الا انه يلحقه مشقة بتحريكه اھ (99/2۔
و فيه ايضاً : (كما صح لو شرع بغير عربية) (الیٰ قوله) و شرطا عجزه و على هذا الخلاف الخطبة و جميع أذكار الصلاة (الیٰ قوله) (أو قرأ بها عاجزا) فجائز إجماعا، قيد القراءة بالعجز لأن الأصح رجوعه إلى قولهما و عليه الفتوى الخ
و فی رد المحتار : تحت(قوله ولا سند له يقويه) أي ليس له دليل يقوي مدعاه لأن الإمام رجع إلى قولهما في اشتراط القراءة بالعربية لأن المأمور به قراءة القرآن و هو اسم للمنزل باللفظ العربي المنظوم هذا النظم الخاص ، المكتوب في المصاحف ، المنقول إلينا نقلا متواترا و الأعجمي إنما يسمى قرآنا مجازا و لذا يصح نفي اسم القرآن عنه اھ (1/484)۔
و فيه ايضاً : أقول : قدمنا في باب التيمم أن العاجز عن استعمال الماء بنفسه لو وجد من تلزمه طاعته كعبده و ولده و أجيره لزمه الوضوء اتفاقا و كذا غيره ممن لو استعان به أعانه في ظاهر المذهب ، بخلاف العاجز عن استقبال القبلة أو التحول عن الفراش النجس فإنه لا يلزمه عنده اھ (2/96)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 43559کی تصدیق کریں
0     582
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات