السلام علیکم،
میرا سوال یہ ہے کہ میں بین الاقوامی سطح پر Academic Writing Service فراہم کرتا ہوں۔ اس میں طلبہ اپنے ہوم ورک کے آرڈرز دیتے ہیں اور میں پاکستان سے ان کے لیے ہوم ورک تیار کر کے فراہم کرتا ہوں۔ یہ کام میرے نام سے دیا جاتا ہے، لیکن بعد میں طلبہ اسے اپنے نام سے استعمال کرتے ہیں۔مزید یہ کہ میں نے اپنی ویب سائٹ پر واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ یہ مواد صرف رہنمائی اور مدد کے لیے ہے اور اسے براہِ راست جمع نہ کروایا جائے۔ اس بارے میں میں پہلے بھی معلومات حاصل کر چکا ہوں اور مجھے بتایا گیا تھا کہ اس نوعیت کا کام جائز ہے۔
اب مجھے ایک نئی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ COVID کے بعد بہت سی یونیورسٹیاں اپنا ہوم ورک اور امتحانات آن لائن پورٹل یا ویب سائٹس کے ذریعے لیتی ہیں۔ مثال کے طور پر جس طرح میں اس وقت آپ کی ویب سائٹ پر یہ سوال لکھ رہا ہوں، اسی طرح بعض طلبہ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ان کے یونیورسٹی اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہو کر ان کی طرف سے ہوم ورک یا امتحان مکمل کر دوں۔اس معاملے میں مجھے کچھ شبہات ہیں۔ براہِ کرم وضاحت فرما دیں کہ کیا میرے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟ کیونکہ میرا مؤقف یہ ہے کہ میں صرف اپنی خدمات فراہم کر رہا ہوں۔
واضح ہو کہ کسی طالب علم کی جگہ امتحان دینا یا طالب علم کا ہوم ورک کر کے دینا دونوں ہی ایک نوع دھوکہ دہی اور جرم پر مبنی عمل ہیں، لہذا سائل کے لیے طلبہ کا ہوم ورک کرنا یا ان کی طرف سے امتحان دینا پھر اس پر اجرت لینا دونوں نا جائز ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في ترغیب و ترهيب : عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من غشنا فليس منا اھ (۲/ ۵۷۲)
و في الدر المختار: باب الإجارة الفاسدة (الفاسد) من العقود (ما كان مشروعا بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعا أصلا) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوما ابن كمال (بخلاف الثاني) وهو الباطل فإنه لا أجر فيه بالاستعمال حقائق (ولا تملك المنافع بالإجارة الفاسدة بالقبض، بخلاف البيع الفاسد) اھ (6/ 45)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله والباطل) كأن استأجر بميتة أو دم أو استأجر طيبا ليشمه أو شاة لتتبعها غنمه أو فحلا لينزو أو رجلا لينحت له صنما ط. (6/ 45)