پرائز بانڈ خرید کر رکھے ہیں ، آپ کا فتوی ہےکہ اس کا انعام جائز نہیں، لیکن بانڈ پر لکھا ہوتا ہے کہ اس کی رقم سود نہیں ہے تو یہ کیسے سود ہو سکتا ہیں ؟ جبکہ یہ ہم نے انوسٹمنٹ کیلئے رکھا ہے، اس سے نکلنے والا انعام منافع ہے، اگر انعام نہیں لگا تو اتنی ہی رقم ہم کیش کرواسکتے ہیں، یہ کوئی نقصان نہیں تو پھر جب نقصان کا اندیشہ نہیں اور بینک لکھ رہا ہے کہ یہ سود نہیں ہے تو یہ سودی رقم کیوں ہو جاتی ہے ؟
واضح ہو کہ پرائز بانڈ اسکیم میں حکومت لوگوں سے جو رقم اکٹھی کر کے پرائز بانڈ سرٹیفکیٹ دیتی ہے ، یہ رقم در اصل لوگوں کا حکومت پر قرض ہوتی ہے، اور مذکور سرٹیفکیٹ اسی قرض کی رسید ہوتی ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط یا معروف نفع قرآن و سنت کی روشنی میں "سود " ہے، جبکہ حکومت پرائز بانڈ رکھنے والے ہر ہر فرد سے اگرچہ انعام دینے کا وعدہ نہ کرتی ہو، مگر انعامی بانڈ رکھنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ طے ہوتا ہے کہ حکومت انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی ، اگر وہ ایسا نہ کرے تو بانڈ ز رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے، بلکہ وہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے۔
چنانچہ مذکور تفصیل کی روشنی میں یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ پرائز بانڈ پر ملنے والا انعام ( پرائز) در حقیقت قرض پر مشروط نفع ہونے کی وجہ سے "سود" ہے اگرچہ حکومت اس کو "سود" نہ کہتی ہو، لہذا مذکور انعام حاصل کر کے اپنے استعمال میں لانا حرام اور ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالى: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّيو - (البقرة: 275)
وفي الدر المختار: كل قرض جر نفعا حرام اھ
وفي رد المحتار : تحت( قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخیرة وإن لم یکن النفع مشروطا فی القرض، فعلی قول الکرخی لا بأس به اھ (۵/ ۱۶۶) -
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0