احکام نماز

ظہر کی چار سنتیں مستقل ترک کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
43474
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

ظہر کی چار سنتیں مستقل ترک کرنے کاحکم

میرا بیٹا ظہر کی چار رکعت سنت نہیں پڑھتا، سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں تو بولتا ہے کہ سعودیہ والے بھی نہیں پڑھتے ہیں، مہربانی کرکے جواب دیں، تا کہ اس کو قائل کرسکوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ظہر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں اور ظہر کی سنتوں کا بہت زیادہ اہتمام فرمایا کرتے تھے، چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، اس میں ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعت اور صبح کی نماز سے پہلے دور کعت (کبھی) نہیں چھوڑتے، لہذا سائل کےبیٹے کا بلا کسی عذر کے ظہر کی سنتیں ترک کرنا اور اس پر مداومت اختیار کرنادرست نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها: «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يدع أربعا قبل الظهر، وركعتين قبل الغداة (590/2)۔
وفي البحر الرائق : السنة المؤكدة على الصحيح لتصريحهم بأن من ترك سنن الصلوات الخمس قيل لا يأثم والصحيح أنه يأثم ذكره في فتح القدير وتصريحهم بالإثم لمن ترك الجماعة مع أنها سنة مؤكدة على الصحيح، وكذا في نظائره لمن تتبع كلامهم ولا شك أن الأثم مقول بالتشكيك بعضه أشد من بعض فالإثم لتارك السنة المؤكدة أخف من الإثم لتارك الواجب اهـ (219/1)۔
وفي الدر المختار : القريب من الحرام ما تعلق به محذور دون استحقاق العقوبة بالنار، بل العتاب كترك السنة المؤكدة ، فإنه لا يتعلق به عقوبة النار، ولكن يتعلق به الحرمان عن شفاعة النبي المختار (ص)، لحديث من ترك سنتي لم ينل شفاعتي فترك السنة المؤكدة قريب من الحرام وليس بحرام (526/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 43474کی تصدیق کریں
0     894
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات