مباحات

نوکری کے لئے کسی سے سفارش کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
43051
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

نوکری کے لئے کسی سے سفارش کروانے کا حکم

میں نے ایک فورس میں اپلائی کیا ہوا ہے، اگر میرے ابو کہتے ہیں کہ فلاں بندے کو فون کر کے اپنی سفارش کرواؤ تو کیا یہ جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاننا چاہیے کہ کسی جائز کام میں سفارش کرنا تو فی نفسہ جائز ہے ، مگر اس سفارش کی وجہ سے کسی دوسرے کا حق مارا جاتا ہو یا میرٹ پر فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہو ، یا سفارش کی وجہ سے غیر اصل کو اہل ٹھہرا کر حقدار کو اس کے حق سے محروم کیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں سفارش کرنا اور سفارش پر نوکری حاصل کرنا دونوں نا جائز ہیں، جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في القرآن الكريم : {مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا وَمَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُنْ لَهُ كِفْلٌ مِنْهَا } [النساء: 85]
و في صحيح البخاري: عن أبي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم: أنه كان إذا أتاه السائل أو صاحب الحاجة قال: «اشفعوا فلتؤجروا، وليقض الله على لسان رسوله ما شاء» اھ (8/ 12) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عباس مسکین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 43051کی تصدیق کریں
0     176
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات