نماز کے لۓ سات سال کے بعد کہا جائے ، دس سال کے بعد نہ پڑھنے پہ سزا کا حکم ہے ، آیا سزا کس عمر تک دی جائے ؟
نمبر ۲ ۔سزا کا اختیار والدین کو ہے یا مربی اور استاد بھی سزا دے سکتا ہے؟
نمبر ۳ ۔سزا کی تعیین کیا ہے؟
جی ہاں! حدیثِ مبارک کی رو سے ، بچہ جب دس سال کا ہو جائے اور ترغیب و ترہیب کے باوجود نماز میں غفلت کرے ، تو اس کو تادیباً مارنے کا حکم ہے، تاہم مار ایسی نہ ہو کہ اس کی وجہ سے اس کے جسم پر نشان پڑ جائیں ، یا کھال پھٹ جائے ، یاہڈی ٹوٹ جائے اور یہ مار تین ضربات سے زائد بھی نہ ہو ، جبکہ مذکور حکم جس طرح والدین کے لۓ ہے، اسی طرح والدین کی طرف سے صراحتاً یا دلالۃً اجازت کے ساتھ ، مربی اور استاد کے لۓ بھی ہے ، تاہم مذکور ’’تادیبی‘‘ مار کا حکم بچے کے بالغ ہونے تک ہے ، بالغ ہونے پر چونکہ وہ خود مکلف ہو جاتا ہے ، اس لۓ اس کے بعد بھی نماز میں غفلت اور کوتاہی برتنے کی وجہ سے وہ ’’تارکِ صلاۃ‘‘ شمار ہوگا ، اور اس کی سزا کے متعلق آراء کا اختلاف ہے، جس کی تفصیل کے لۓ کتبِ فقہ کی طرف مراجعت کی جا سکتی ہے۔
فی سنن أبي داود : عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : «مروا أولادكم بالصلاة و هم أبناء سبع سنين ، و اضربوهم عليها ، و هم أبناء عشر و فرقوا بينهم في المضاجع» اھ (1/ 133)۔
و فی الدر المختار : (و إن وجب ضرب ابن عشر عليها بيد لا بخشبة) لحديث «مروا أولادكم بالصلاة و هم أبناء سبع ، و اضربوهم عليها و هم أبناء عشر» قلت و الصوم كالصلاة على الصحيح كما في صوم القهستاني معزيا للزاهدي و في حظر الاختيار أنه يؤمر بالصوم و الصلاة و ينهى عن شرب الخمر ليألف الخير و يترك الشر اھ (1/ 352)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله : و إن وجب إلخ) هذا مبالغة على مفهوم قوله : كل مكلف ، كأنه قال و لا يفترض على غير المكلف و إن وجب أي على الولي ضرب ابن عشر ، و ذلك ليتخلق بفعلها و يعتاده لا لافتراضها ح . و ظاهر الحديث أن الأمر لابن سبع واجب كالضرب . و الظاهر أيضا أن الوجوب بالمعنى المصطلح عليه لا بمعنى الافتراض ؛ لأن الحديث ظني فافهم . (قوله : بيد) أي و لا يجاوز الثلاث ، و كذلك المعلم ليس له أن يجاوزها «قال - عليه الصلاة و السلام - لمرداس المعلم إياك أن تضرب فوق الثلاث ، فإنك إذا ضربت فوق الثلاث اقتص الله منك» اهـ (1/ 352)۔