مباحات

اساتذہ کے لئے سرکاری اسکول کے پھل اور سبزیاں استعمال کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
42952
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اساتذہ کے لئے سرکاری اسکول کے پھل اور سبزیاں استعمال کرنے کا حکم

السلام علیکم !
جناب سرکاری اسکول ، کالج اور جامعات میں شوقیہ پھل (فروٹ) اور دیگر سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں ، جس کی آبپاشی اور آبیاری سرکاری پانی اور بجلی سے کی جاتی ہے، کیا ان پھل اور سبزی کو اساتذہ استعمال کر سکتے ہیں، راہ نمائی فرمائیں، والسلام!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سرکاری جامعات وغیرہ میں انتظامیہ کی جانب سے جو پھلوں کے درخت یا سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں، وہ ادارے کی ملک ہے ، اسے فروخت کر کے اس سے حاصل شدہ رقم کو ادارے کی ترقی کے لیے استعمال کی جائے، البتہ اگر انتظامیہ کی طرف سے صراحتہ یا دلالۃً وہ پھل اور سبزیاں اساتذہ کو استعمال کرنے کی اجازت ہو تو ان کے لیے اس کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

و في الدر المختار: (ومن بنى أو غرس في أرض غيره بغير إذنه أمر بالقلع والرد) لو قيمة الساحة أكثر كما مر ( الى قوله) ولو زرعها يعتبر العرف فإن اقتسموا الغلة أنصافا أو أرباعا اعتبر وإلا فالخارج للزارع وعليه أجر مثل الأرض اھ (6/ 194)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وإلا فالخارج للزارع إلخ) أي إن لم يكن عرف في دفعها مزارعة، ولا في قسم حصة معلومة يكون الزارع غاصبا فيكون الخارج له اھ (6/ 195)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
وقار احمد زید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 42952کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات