نجاسات اور پاکی

بارش کے پانی میں نالے کاگندا پانی مل جانے سے اس کی پاکی کا حکم

فتوی نمبر :
41626
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بارش کے پانی میں نالے کاگندا پانی مل جانے سے اس کی پاکی کا حکم

بارش کے دوران بارش کے پانی میں اگر نالے کا پانی مکس ہو اور بارش کا پانی زیادہ ہو تو اس میں نماز ادا ہوجائے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بارش کے پانی کے ساتھ ملنے والا نالے کا پانی اگر کپڑوں یا جسم کو لگ جائے تو ایسی صورت میں اس کو صاف کیے بغیر نماز ادا نہ ہوگی، بلکہ نماز سے قبل اس کو دھو کر پاک کرنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و بتغير أحد أوصافه) من لون أو طعم أو ريح (ينجس) الكثير و لو جاريا إجماعا ، أما القليل فينجس و إن لم يتغير خلافا لمالك (لا لو تغير) بطول (مكث) فلو علم نتنه بنجاسة لم يجز اھ (1/186)۔
فی الفتاوی الھندیة : و في بعض الفتاوى قال مشايخنا : المطر ما دام يمطر فله حكم الجريان حتى لو أصاب العذرات على السطح ثم أصاب ثوبا لا يتنجس إلا أن يتغير اھ (1/17)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 41626کی تصدیق کریں
0     1051
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات