انٹرنیٹ پر معلوم ہوا کہ قبلہ شریف ۲۶۰ ڈگری پر ہے، مگر ہمارے علاقہ "منصور آباد " کی کچھ مساجد میں صف بندی ۲۷۰ ، ۲۸۰ ، ۲۵۰ ہے ، میں نے اپنی مسجد کے امام صاحب سے اس بات کا تذکرہ کیا، مگر کوئی جواب نہ ملا ، کیا درست قبلہ ڈائریکشن ہونے کے باوجود ہماری نماز قبول ہورہی ہے۔
اولاً : یہ جاننا چاہیۓ کہ سمتِ قبلہ معلوم کرنے کے آلات خاص کر ’’قبلہ نماز‘‘ تخمینی ہیں ، یقینی اور قطعی نہیں ، اس لۓ اس پر زیادہ مدار رکھنا اور تمام مسلمانوں کی نمازوں کو مشکوک بنانا درست نہیں۔
ثانیا : اگر آلات کے ذریعہ سمتِ قبلہ درست بھی مان لیا جائے ، تب بھی دور دراز ممالک کے لوگوں کے لۓ عینِ قبلہ کے بجائے ، سمتِ قبلہ یعنی جس طرف اور جہت میں قبلہ ہے، جیسے پاکستان میں مغرب کی جانب قبلہ ہے ، تو نماز میں مغرب کی طرف منہ کرنا ضروری ہے، اور اس میں ’’عینِ قبلہ‘‘ سے ۴۵ ڈگری دائیں یا بائیں جانب انحراف کی صورت میں بھی نماز درست ادا ہوجاتی ہے، لہٰذا مسئولہ صورت میں مذکور فرق سے اب تک جتنی نمازیں پڑھی گئیں ہیں وہ تو درست ہوگئیں ہیں، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، البتہ آئندہ کے لۓ کسی ماہر فن کی راہ نمائی میں قبلہ کی درست سمت کا تعیّن کر لیا جائے اور اس فرق کو کم سے کم کیا جائے، تاکہ صحتِ نماز میں کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔