میری عمر 68سال ہے، میری پروسٹیٹ کی سرجری ہوئی ہے۔ ہر وقت پیشاب میں خون کے قطرے آتے رہتے ہیں، جسم اورکپڑے بھی خراب ہوجاتے ہیں، یقیناً وضو بھی قائم نہیں رہتا، ان حالات میں میں اپنی نمازیں کیسے ادا کروں؟
سائل کو اگر مذکور عذر اس قدر تسلسل کے ساتھ لاحق ہوتا ہو کہ اسے نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی میسر نہ ہو کہ جس میں وہ کامل طہارت کےساتھ فقط فرض نماز ادا کر سکے تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور کے حکم میں ہے، اور اس حکم کی تفصیل یہ ہے کہ سائل مثلا ادائیگئی ظہر کےلئے ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض نماز ِظہر ادا کرے اس کے بعدعصر کی نماز کی ادائیگی کےلئے پور اوقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے نماز ِعصر باجماعت ادا کرے، اس دوران اگر پیشاب کے قطرےنکلتے ہوں،تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا ، اسی طرح مغرب، عشاء، فجر تمام نمازوں کے اوقات کیلئے وضو کرلیا کرے، اور پھر اس وضو سے وہ تمام عبادات (نماز ، قرآن کی تلاوت، وغیرہ) بجالاتارہے، چنانچہ اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے سائل کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز ایسا گزرے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو تو وہ شرعاً معذور نہیں رہے گا،اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کی أشد ضرورت ہے۔
كما في الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل..وحكمه الوضوء لا غسل ثوبه ونحوه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه. وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر. (وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى، (1/ 305 / 306)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: ونحوه) كالبدن والمكان ط (قوله: اللام للوقت) أي: فالمعنى لوقت كل صلاة، بقرينة قوله بعده فإذا خرج الوقت بطل، فلا يجب لكل صلاة خلافا للشافعي أخذا من حديث «توضئي لكل صلاة» قال في الإمداد: وفي شرح مختصر الطحاوي روى أبو حنيفة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة - رضي الله عنها - «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال لفاطمة بنت أبي حبيش: توضئي لوقت كل صلاة» ولا شك أنه محكم؛ لأنه لا يحتمل غيره بخلاف حديث " لكل صلاة " فإن لفظ الصلاة شاع استعماله في لسان الشرع والعرف في وقتها فوجب حمله على المحكم وتمامه فيه. (قوله: ثم يصلي به) أي: بالوضوء فيه أي: في الوقت (قوله: فرضا) أي: أي فرض كان نهر أي: فرض الوقت أو غيره من الفوائت (قوله: بالأولى) ؛ لأنه إذا جاز له النفل وهو غير مطالب به يجوز له الواجب المطالب به بالأولى، أفاده ح، أو؛ لأنه إذا جاز له الأعلى والأدنى يجوز الأوسط بالأولى (قوله: فإذا خرج الوقت بطل) أفاد أن الوضوء إنما يبطل بخروج الوقت فقط لا بدخوله.. (1) (306)۔