احکام نماز

چوری کی بجلی سے پانی چلاکر اس سے وضو کرکے نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
41432
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

چوری کی بجلی سے پانی چلاکر اس سے وضو کرکے نماز پڑھنے کا حکم

کنڈا لگا کر بجلی سے موٹر چلا کے وضو کرنا اور کنڈے والی بجلی سے آمدن لینا کیسا ہے ؟ کیا چوری کی بجلی سے کی ہوئی عبادت (فرض) دوبارہ کرنی چاہیئے یا تو بہ سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کنڈ الگا کر بجلی کا استعمال کرنا تو جائز نہیں بلکہ یہ قومی چوری ہے، جتنی بجلی اس طرح استعمال کی گئی ہے اس کا حساب کر کے اتنابل متعلقہ محکمہ میں جمع کرا نالازم ہے ، البتہ ایسی بجلی کے ذریعے حاصل کئے گئے پانی سے وضوء کرکے جو عبادات ادا کی جائیں وہ اداء ہو جائیں گی،اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں، تاہم کنڈے والی بجلی سے آمدنی لینے کی سائل نے وضاحت نہیں کی کہ اس سے سائل کی کیا مراد ہے، لہذا اس کی وضاحت کر کے اس کے متعلق سوال دوبارہ ای میل کر دیا جائے ، ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في شرح المجلة: لا يجوز لاحد ان يتصرف في مال الغير بلا اذنه وعدم الجواز شامل لجميع انواع التصرف من استعمال كركوب ولبس ووضع جذع على حائط ودخول دار و مرور بارض ومن اعارة واجارة وصلح وهبة وبيع ورهن وهدم وبناء وجميع ما يجزيه به من العقود تمليكا بعوض او بغير عوض يتوقف على اجازته فامتناع جميع ذلك يتفرع على هذه القاعده اھ (۱/ ۲۶۲)
و في الدر المختار: (افترض عليه إجابته) لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض فكيف فيما هو طاعة بدائع اھ (4/ 264)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله: وأرض مغصوبة أو للغير) و في شرح المنية للحلبي: بنى مسجدا في أرض غصب لا بأس بالصلاة فيه. (1/ 381)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر و في ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ (5/ 422)
و في شرح المجلة: لا يجوز ان يتصرف في ملك غيره بلا اذنه او وكالة منه او ولاية علیه وإن فعل كان ضامنا اھ (۱/ ۶۱)
و في فتاویٰ الو الوالجیة: نهر مغصوب فجاء انسان فاراد التوضی أو الشرب منه ، إن لم یحول الغاصب النهر عن موضعه جاز لان الناس شرکاء فی الماء اھ (۲/ ۲۸۰) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شبیراللہ عبدالرؤف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41432کی تصدیق کریں
0     239
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات