کیا فرماتے ہیں علماء کرام ان مسائل کے بارے میں (۱) سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہے، جس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے ۔ فاتحہ کے معنیٰ آغاز اور ابتداء کے ہیں، اس لیے اسے الفاتحہ یعنی فَاتِحَةُ الْکِتَابِ کہا جاتاہے ۔ اس کے اور بھی متعدد نام احادیث سے ثابت ہیں، مثلاً:
اُمُّ الْقُرْاٰنِ، السَّبْعُ الْمَثَانِیْ، اَلْقُرْاٰنُ الْعَظِیْمُ، الشِّفَآءُ، الرُّقْیَةُ (دم) وَغَیْرھَا مِنَ الاَسْمَآءِ.
اس کا ایک اہم نام ’’الصَّلَوٰۃ‘‘ بھی ہے‘ جیسا کہ ایک حدیثِ قدسی میں ہے‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَسَّمْتُ الصَّلَاةَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ. الحدیث (صحیح مسلم. كتاب الصلٰوة)
’’میں نے صلاۃ (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے‘‘ مراد سورہ فاتحہ ہے جس کا نصف حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی رحمت وربوبیت اور عدل وبادشاہت کے بیان میں ہے اور نصف حصے میں دعا ومناجات ہے جو بندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔
(۲) اس حدیث میں سورۃ فاتحہ کو ’’نماز‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اس کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ چنانچہ نبیﷺ کے ارشادات میں اس کی خوب وضاحت کردی گئی ہے‘ فرمایا:
وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأ بِفَاتِحَةِ الْكتَابِ، (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
’’اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی۔‘‘ اس حدیث میں (مَن) کا لفظ عام ہے جو ہر نمازی کو شامل ہے۔ منفرد ہو یا امام، یا امام کے پیچھے مقتدی۔ سری نماز ہو یا جہری، فرض نماز ہو یا نفل۔ ہر نمازی کے لیے سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔
اس عموم کی مزید تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نماز فجر میں بعض صحابہ کرامؓ بھی نبیﷺ کے ساتھ قرآن کریم پڑھتے رہے جس کی وجہ سے آپﷺ پر قراءت بوجھل ہو گئی، نماز ختم ہونے کے بعد جب آپﷺ نے پوچھا کہ تم بھی ساتھ پڑھتے رہے ہو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو آپﷺ نے فرمایا:
لَاتَفْعَلُوْا اِلا بِاُمَ الْقُرْآنِ؛ فَاِنَّهُ لاَ صَلوٰةَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَاْبِھَا.
’’تم ایسا مت کیا کرو (یعنی ساتھ ساتھ مت پڑھا کرو) البتہ سورۃ فاتحہ ضرور پڑھا کرو، کیونکہ اس کے پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی) اسی طرح حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
مَنْ صَلَّی صَلوٰةً لَمْ یَقْرَاْ فِیْھَا بِاُمِّ الْقُرْآنِ، فَھی خِدَاجٌ، ثَلَاثًا، غَیْرُ تَمَامِ،
’’جس نے بغیر فاتحہ کے نماز پڑھی تو اس کی نماز ناقص ہے‘‘ تین مرتبہ آپﷺ نے فرمایا۔ ابو ہریرۃؓ سے عرض کیا گیا: اِنا نَکوْنُ وَرَآءَ الإِمَام (امام کے پیچھے بھی ہم نماز پڑھتے ہیں، اس وقت کیا کریں؟) حضرت ابو ہریرۃؓ نے فرمایا (اِقْرَاَ بِھَا فِیْ نَفْسک) (امام کے پیچھے تم سورۃ فاتحہ اپنے جی میں پڑھو) صحیح مسلم۔
مندرجہ بالا وضاحت بحوالہ حدیث کے بعد درج ذیل اشکالات سامنے آتے ہیں جس کی وضاحت استدلال کے ساتھ ضروری ہے تاکہ یکسو ہو کر نماز بے شک وشبہ پڑھی جائے۔
(۱) خفی نماز میں، سورۃ فاتحہ کا پڑھنا؟
(۲) خفی یا جہری نماز میں جب مقتدی رکوع میں شامل ہو جاتا ہے تو وہ رکعت اسے کیسے پوری مل جاتی ہے؟ (فقہ حنفی کے مطابق پوری رکعت مل جاتی ہے)
برائے مہربانی دونوں کا جواب استدلال کے ساتھ لکھ کر بھجوائیں۔ جزاکم اللہ!
نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا اور اس کے ساتھ سورۃ یا قرآن کریم کا کوئی دوسرا حصہ ملانا ہر دوامور شرعاً ضروری ہیں اور دونوں ہی کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں تصریحات آئی ہیں کہ ان کے بغیر نماز نہیں ہوتی، چنانچہ صحیح مسلم اور ابوداؤد شریف کی روایت ہے (جسے مذکور تفسیری اقتباس میں بحوالہ بخاری مختصرا نقل کیا گیا ہے اور عام طور پر اتنی ہی روایت نقل کی جاتی ہے):
فی أبی داؤد: عن عبادة ابن الصامت أن رسول اللهﷺ قال لا صلوٰة لمن لم یقرأ بأم القرآن فصاعدا. (جلد ۱ ص ۱۱۹)
ترجمہ: حضرت عبادہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص سورۃ فاتحہ اور کچھ زیادہ (سورۃ) نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔
اور حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ:
أمرنا رسول اللهﷺ أن نقرأ بفاتحة الكتاب وماتیسر. (جلد ۱ص ۱۱۸)
رسولﷺ نے ہم کو فاتحہ اور (اسکے ہاتھ) جو آسان ہو اس کے پڑھنے کا حکم فرمایا۔
اور ترمذی ابن ماجہ میں روایت ہے۔
’’لا صلوٰة لمن لم یقرأ بالحمد وسورة‘‘ (ص ۶۰)
ترجمہ: اس شخص کی نماز نہیں جو الحمد اور سورت نہ پڑھے۔
ان احادیث مبارکہ سے صاف واضح ہے کہ جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی بھی نماز نہیں ہوتی اور جو اس کے بعد سورۃ وغیرہ نہ ملائے اس کی بھی نماز نہیں ہوتی، جبکہ نماز پڑھنے والے افراد تین طرح كے ہوتے ہیں: (۱) امام (۲) منفرد یعنی تنہا نماز پڑھنے والا (۳) مقتدی یعنی امام کے پیچھے نماز پڑھنے والا۔ ذخیرہ احادیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احادیث کا حکم اتنا عام نہیں جو ان تینوں قسم کے افراد کو شامل ہو، بلکہ اس سے مراد امام اور منفرد (تنہا نماز پڑھنے والا) ہیں، مقتدی مراد نہیں ورنہ امام کے ساتھ سورۃ فاتحہ پڑھنے والے کیلیے کوئی دوسری سورۃ ملانا بھی ضروری ہوگا جس کا کوئی بھی قائل نہیں، اس لیے کہ احادیثِ مبارکہ میں امام کی نماز کو مقتدی کی نماز قرار دیا گیا، جبکہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے جہاں یہ حدیث نقل فرمائی کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی وہاں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت استدلال کے طور پر ذکر فرمائی ہے کہ اس سے مراد امام اور منفرد ہیں نہ کہ مقتدی، کیونکہ اس کی نماز اس کے بغیر بھی ہو جاتی ہے (ترمذی جلد ۱ ص ۳۴) اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح مسلم میں نماز باجماعت پڑھنے کے متعلق جو حدیث نقل فرمائی ہے اس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا جب تم نماز کیلیے کھڑے ہو تو ایک آدمی امام بنے جب وہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہے تو تم بھی ’’اللہ اکبر‘‘ کہو اور جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو اور جب وہ ’’ولا الضآلین‘‘ کہے تم آمین کہو اور جب وہ ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے تم ’’ربنا لک الحمد‘‘ کہو (صحیح مسلم ص ۱۷۲) اور بیہقی میں ہے:
عن جابر بن عبداللهؓ قال قال رسول اللهﷺ كل صلوٰة لا یقرأ فیھا بأم الكتاب فھی خداج الا وراء الامام (۱۳۶)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے ناقص ہے، مگر امام کی اقتداء میں جو نماز پڑھی جائے اس میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
عن جابر رضی الله عنه قال ان رجلا صلی خلف النبیﷺ فی الظھر أو العصر یعنی یقرأ فأومی الیه رجل فنھاه فأبی فلما انصرف قال اتنھانی أن أقرأ خلف النبیﷺ فتذاكرا حتی سمو النبیﷺ فقال رسول اللهﷺ من صلی خلف امام فان قراءة الامام له قراءة. (كتاب القراءة ص ۱۲۶ بحواله مجموعه رسائل)
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺ کی اقتدا میں ظہر یا عصر کی نماز میں قراءۃ کی۔ اثناء نماز میں ایک شخص نے اس کو اشارۃ سے منع کیا، لیکن وہ دوسراشخص باز نہ آیا جب نماز سے فارغ ہو چکے تو قراءۃ کرنے والے شخص نے منع کرنے والے سے کہا کہ تم مجھے نبی اکرمﷺ کے پیچھے پڑھنے سے کیوں روکتے ہو، وہ دونوں آپس میں تکرار کر رہے تھے کہ حضورﷺ نے ان کی گفتگو سن کر فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہو تو اس کے لیے امام کی قراءۃ ہی کافی ہے (اس کو الگ پڑھنے کی ضرورت نہیں امام کا پڑھنا ہی مقتدی کا پڑھنا ہے)۔
اور طحاوی شریف میں ہے:
عن ابن عباسؓ أنه قیل له أناسا یقرؤن فی الظھر والعصر فقال لو كان لی علیھم سبیل لقلعت ألسنتھم أن رسول اللهﷺ قرأفكانت قرأته لنا قرأة وسكوته لنا سكوتا (۱۳۵)
حضرت ابن عباسؓ سے ان لوگوں کا حکم دریافت کیا گیا جو ظہر اور عصر کی نمازوں میں امام کی ساتھ قرأت کرتے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے ان پر اختیار ہو تا تو ان کی زبانیں کھینچ ڈالتا، حضورﷺ نماز میں قرأت فرماتے تھے آپﷺ کی قرأت ہماری قرأت ہوتی تھی اور آپﷺ کا سکوت ہمارے لیے سکوت ہوتا تھا۔
اس مختصر سی وضاحت سے یہ معلوم ہوا کہ امام چاہے آہستہ قرأت کر رہا ہو یا بلند آواز سے، احادیثِ صحیحہ میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے مقتدی کو خاموش رہنے اور سننے کا حکم ہے، الّایہ کہ کوئی شخص دل ہی دل میں بغیر زبان ہلائے پڑھ لے تو حدیثِ ابو ھریرۃ کی بناء پر عند الاحناف بھی اس کی گنجائش ہے۔
عن ابی ھریرة رضی الله عنه یقول قال رسول اللهﷺ من صلی صلوة لم یقرأ فیھا بأم القرآن فھی خداج فھی خداج فھی خداج غیر تمام قال فقلت یا ابا ھریرة انی أكون أحیانا وراء الامام قال فغمز ذراعی وقال اقرأ بھایا فارسی فی نفسك الخ (ابو داؤد جلد ۱ ص ۱۱۹)
(۲) احادیثِ طیبہ کی روشنی میں ایسا شخص رکوع میں شامل ہو جائے وہ رکعت پانے والا شمار ہوتا ہے اگر مقتدی پر فاتحہ لازم ہوتی دار قطنی میں ہے:
عن ابی ھریرةؓ أن رسول اللهﷺ قال من أدرك ركعة من الصلوٰة فقد أدركھا قبل أن یقیم الامام صلبه (دار قطنی جلد ۱ ص ۳۴۸)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے امام کو پشت سیدھی کرنے سے قبل پا لیا اس نے رکعت کو پا لیا۔
جبکہ مذکور تفسیری اقتباس میں دوسری روایت کے اندر ’’لاتفعلو‘‘ کے بعد ’’الابام القرآن الخ‘‘ کا اضافہ عند المحد ثین مختلف فیہ ہے جو قابل استدلال نہیں۔ واللہ أعلم