احکام نماز

اگر فقط فرض نمازیں پڑھی جائیں اور سنتیں ترک کردے تو کیا نماز ہوجاتی ہے ؟

فتوی نمبر :
40000
| تاریخ :
2020-04-01
عبادات / نماز / احکام نماز

اگر فقط فرض نمازیں پڑھی جائیں اور سنتیں ترک کردے تو کیا نماز ہوجاتی ہے ؟

اگر نماز کے صرف فرض ادا کر لیے جائیں تو کیا نماز ہو جاتی ہے؟ مثال کے طور پر فجر کے ۲ فرض، ظہر کے چار فرض، عصر کے چار فرض، مغرب کے تین، عشاء کے چارفرض۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بلا عذر ہمیشہ صرف فرائض پر اکتفاء کرنا بڑی جسارت اور محرومی ہونے کے ساتھ شرعاً گناہ ہے، جس سے بہرحال اجتناب لازم ہے، البتہ کسی مرض یا سفر کے عذر کی وجہ سے ایسا ہو جائے تو گناہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی غنیة المتملی: هی لا نافلة وهی فی اللغة الزیادة وفی الشرع العبادة التی لیست بفرض ولا واجب فهی العبادة الزائدة علی ماهو لازم فتعم لسنن المؤکدة والمستحبة والتطوعات غیر المؤقتة وإنما ذکر المص ما هو موقت منها مؤکدا أو مستحبا والمراد به ما له وقت معینا اھ (۱/ ۳۸۳)
وفیه أیضاً: لو ترک سنة الفجر أو التی قبل الظهر أو التی بعدها ونحوها من المؤکدة قیل لا تلحقه الاساءة لأن سماه تطوعاً إلا أن یستخفه فیقول هذا فعل النبیﷺ وإنا لا أفعله فح یکفر، وفی ترک سنن الصلوات الخمس إن لم یرها حقا کفر وإن رأها وترک قیل لا یأثم والصحیح أنه یأثم لأنه جاء الوعید بالترک اھ (۱/ ۳۸۹) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 40000کی تصدیق کریں
0     1032
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات