دوران نماز صفوں میں جگہ چھوڑ کر (یعنی فاصلہ رکھ کر کھڑے ہونے) وائرس کی وجہ سے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جماعت کے دوران نمازیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کے کھڑا ہونا مسنون اور نماز کی تکمیل کا حصہ ہے، نبی کریمﷺ نے اس کی بہت زیادہ ترغیب بیان فرمائی ہے، اور صف کے درمیان خالی جگہ چھوڑنے پر سخت قسم کی وعیدیں بیان فرمائی ہے، اس لیے اگر دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے صفوں کے درمیان وصل ممکن ہو تو ایسی صورت میں اس سنت کو ترک نہیں کرنا چاہیے، چنانچہ جس شخص میں طبی معاینہ کے بعد ’’کرونا وائرس‘‘ کی تشخیص ہو جائے اس کا مسجد میں آکر جماعت میں شامل ہونا درست نہیں، اس لیے ایسے افراد کا مسجد میں نہ آنا بھی احتیاطی تدابیر کا حصہ ہے، تاہم اگر دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل ممکن نہ ہو اور ایک ساتھ مل کر کھڑے ہونے سے ’’کرونا وائرس‘‘ کے پھیلنے کا واقعی خطرہ ہو، تو ایسی صورت میں انسانی جانوں کا تحفظ کرتے ہوئے اگر ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر نماز ادا کی جائے تو اُمید ہے کہ کوئی گناہ نہ ہوگا اور نماز بھی درست ادا ہو جائےگی۔
ففی سنن أبي داود: عن عبد الله بن عمر، قال قتيبة: عن أبي الزاهرية، عن أبي شجرة - لم يذكر ابن عمر - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم - لم يقل عيسى بأيدي إخوانكم - ولا تذروا فرجات للشيطان ومن وصل صفا وصله الله، ومن قطع صفا قطعه الله» اھ (1/ 178)
وفیه أیضا: عن قتادة، عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «سووا صفوفكم فإن تسوية الصف من تمام الصلاة» اھ (1/ 179)
وفی مشكاة المصابيح: وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «سووا صفوفكم فإن تسوية الصفوف من إقامة الصلاة» . إلا أن عند مسلم: «من تمام الصلاة» اھ (1/ 340)
وفی بذل المجهود فی حل أبی داؤد: (وسدوا الخلل) أي ليضم بعضكم بعضا (ولينوا بأيدي إخوانكم) أي إذا وضع اليد عليكم للتقدم والتأخر، فلينوا له (٢) وانقادوا ولا تستنكفوا منه (لم يقل عيسى: بأيدي إخوانكم) وذكره قتيبة فقط (ولا تذروا) أي لا تتركوا (فرجات) أي بين الصف (للشيطان) أي لدخوله فيه، فإنه إذا بقي فرجة بين الصف يدخله الشيطان كأنها الحذف، كما سيأتي في الحديث الآتي، (ومن وصل صفا وصله الله) أي برحمته (ومن قطع صفا قطعه الله) أي عن رحمته اھ (۳/ ۶۱۳)
وفی عمدة القاري: وكذلك ألحق بذلك بعضهم من بفيه بخر، أو به جرح له رائحة، وكذلك القصاب والسماك والمجذوم والأبرص أولى بالإلحاق، وصرح بالمجذوم ابن بطال، ونقل عن سحنون، لا أرى الجمعة عليه، واحتج بالحديث. وألحق بالحديث: كل من آذى الناس بلسانه في المسجد، وبه أفتى ابن عمر، رضي الله تعالى عنهما، وهو أصل في نفي كل ما يتأذى به اھ (6/ 146) واللہ أعلم بالصواب!