نجاسات اور پاکی

آنکھوں سے نکلنے والا پانی پاک ہے؟

فتوی نمبر :
39775
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

آنکھوں سے نکلنے والا پانی پاک ہے؟

میرا ایک مسئلہ ہےکہ میرے والد ضعیف ہیں ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا پانی بہت بہتا ہے وہ دوا بھی لیتے ہیں، کبھی وہ قمیض سے بھی صاف کر لیتے ہیں آج مولوی صاحب نے کہا کہ آنسوؤں کا پانی نا پاک ہوتا ہے برائے مہر بانی رہنمائی فرما ئیں اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

آنکھوں سے نکلنے والا وہ پانی جو آنکھیں دکھے بغیر نکلتا ہے اور اسی طرح وہ پانی جو آنکھوں کے دکھنے کی وجہ سے نکلتا ہو لیکن صاف ہو، تو صحیح قول کے مطابق وہ نجس نہیں اور اس سے وضوء بھی نہیں ٹوٹتا ،البتہ آنکھیں دکھنے کی وجہ آنکھوں سے نکلنے والا پانی جو اپنی اصل حالت سے خون یا پیپ کی طرح متغیر ہو چکا ہو وہ ناپاک ہے اور اس سے وضو ء ٹوٹ جائے گا۔


کما فی الدرالمختار:(کما) لا ینقض (لو خرج من اذنہ) ونحو ھا کعینہ وثدیہ (قیح) ونحوہ کصدید وما ء سرۃ وعین (لا بوجع)وان خرج(بہ) ای بوجع (نقض) لانہ دلیل الجرح،فدمع من بعینہ رمد او عمش ناقض ،فان استمر صار ذا عذر مجتبی ،والناس عنہ غافلون۔


وفی ردالمختار: قال فی البحر :وفیہ نظر ،بل الظاہر اذا کان الخارج قیحا او صدیدًا لنقض ،سواء کان مع وجع او بدونہ لانہما لا یخرجان الا عن علۃ، نعم ھذا التفصیل حسن فیما اذا کان الخارج ماء لیس غیر۔(۱/۱۴۷)


وفیہ ایضًا: (قولہ:ناقض الخ) قال فی المنیہ:وعن محمد اذا کان فی عینیہ رمد وتسیل الدموع منہا آمرہ بالوضوء لو قت کل صلاۃ لانی اخاف ان یکون ما یسیل منہا صدیدا فیکون صاحب العذر۔اھـ قال فی الفتح: وہذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب، فان الشک والا حتمال لا یوجب الحکم بالنقض، اذ الیقین لا یزول بالشک نعم اذا علم باخبار الاطباء او بعلامات تغلب ظن المبتلی ،یجب۔اھـ۔ قال فی الحلیۃ: ویشہد لہ قول الزاھدی عقب ہذہ المسالۃ: وعن ہشام فی جامعہ ان کان قیحا فکالمستحاضۃ والا فکالصحیح۔اھـ۔ثم قال فی الحلیۃ: وعلی ہذا ینبغی ان یحمل علی ما اذا کان الخارج من العین متغیراً اھـ۔ اقول : الظاہر ان مااستشہد بہ روایۃ اخری لا یمکن حمل مامر علیھا، بدلیل قول محمد لانی اخاف ان یکون صدیدا، لانہ اذا کان متغیرا یکون صدیدا او قیحا فلا یناسبہ العلیل بالخوف، وقد استدرک فی البحر علی مافی الفتح بقولہ لکن صرح فی السراج بانہ صاحب عذر فکان الا مر للایجاب اھـ ویشھد لہ قول المجتبی ینتقض وضوء الخ (۱/۱۴۸)۔ واللہ اعلم باالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیراحمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39775کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات