السلام علیکم! حضرت سوال یہ ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد ایک آدمی کے ایک یا دو دفعہ قطرے آنے کے بعد رک جاتے ہیں، بعد میں( عضو خاص کو)پکڑ کر دیکھنے سے قطرہ نہیں آتا، لیکن جب دو تین دفعہ دبایاجائے تو بال برابر پانی آتا ہے، اس صورت میں ہر نماز کے ساتھ وضو کرنا ہوگا یا دیکھے بغیر دوسری نماز بھی پڑھ سکتا ہے؟ نیز کیا ایساآدمی امامت کر سکتا ہے، اگر مسجد میں اور باشرع شخص نہ ہو؟
جس شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہوں، چاہے پیشاب کرنے سے پہلے ہوں یا پیشاب کے بعد ہوں، یہ پیشاب کی بیماری تصور کی جاتی ہے، لیکن یہ شخص شرعاً معذور اس وقت شمار ہوگا جب کہ ایک مرتبہ فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی اس عذرکے بغیر نہ گزرے، چنانچہ اگر آپ کو یہ قطرے اس قدر تسلسل سے آ رہے ہیں کہ درمیان میں اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ ایک وقت کی فرض نماز ادا کر سکیں تو اس صورت میں آپ معذورین میں شامل ہیں، جن کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کر لیا کریں اور پھر اس وضو سے اس ایک وقت میں جتنے چاہیں فرائض اور نوافل ادا کریں اور تلاوتِ قرآنِ کریم کر لیں، (اس ایک وقت کے درمیان میں جتنے بھی قطرے آجائیں آپ پاک ہی رہیں گے، بشرطیکہ کوئی اور سبب وضو کو توڑنے کا نہ پایا جائے) یہاں تک کہ وقت ختم ہو جائے، یعنی جیسے ہی اس فرض نماز کا وقت ختم ہوگا تو آپ کا وضو بھی ختم ہو جائےگا، پھر اگلی نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ہوگا، البتہ اگر کچھ دیر تک پیشاب کے قطرے آنے کے بعد بند ہوجاتے ہیں یا درمیان میں اتنا وقفہ ہو جاتا ہے کہ جس میں فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے تو آپ شرعاً معذورین میں شامل نہیں ہیں، اس لیے آپ کا وضو ان قطروں سے ٹوٹ جائےگا اور کپڑے بھی ناپاک ہو جائیں گے اور ان کا دھونا (جب کہ وہ مقدار درہم سے تجاوز کر جائیں) واجب ہوگا، اس صورت میں آپ نماز سے کافی پہلے ہی پیشاب کر کے فارغ ہو جائیں اور اس کے بعد پیشاب کے قطروں کے خارج ہونے تک انتظارکریں، جب قطرے بند ہو جائیں اور آپ کو اطمینان حاصل ہو جائے تو پھر اس کے بعد وضو کر کے نماز ادا کریں، اس دوسری صورت میں سائل کے لیے امامت کرنا بھی جائز ہوگا۔
ففی الفتاوى الهندية: شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله حتى لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت وصلت ثم خرج الوقت ودخل وقت صلاة أخرى وانقطع دمها فيه أعادت تلك الصلاة لعدم الاستيعاب. (إلی قوله) المستحاضة ومن به سلس البول (إلی قوله) يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق. (إلی قوله) ويبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق. هكذا في الهداية وهو الصحيح. (إلی قوله)إذا كان به جرح سائل وقد شد عليه خرقة فأصابها الدم أكثر من قدر الدم أو أصاب ثوبه إن كان بحال لو غسله يتنجس ثانيا قبل الفراغ من الصلاة جاز أن لا يغسله وصلى قبل أن يغسله وإلا فلا هذا هو المختار هكذا في المضمرات اھ (1/ 41)
وفی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) (إلی قوله) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) اھ (1/ 305)