میرا سوال مندرجہ ذیل ہے ،کیا مرد بھنویں بناسکتاہے؟ نماز میں خشوع وخضوع کس طرح پیدا کرسکتے ہیں؟
مردوں کے لیے بھنویں بنانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس میں اس قدر مبالغہ سے کام نہ لیا جائے، کہ ہیجڑوں کے ساتھ مشابہت پیدا ہوجائے۔
نماز میں خشوع وخضوع حاصل کرنے کے لیے تمام مستحبات وآداب کا لحاظ کرتے ہوئے وضوء کا اہتمام کرے، اور نماز میں پڑھے جانے والے الفاظ کی طرف دہان رکھے، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دہان رکھے کہ میں رب العالمین کے سامنے اس کے دربار میں حاضر ہو اہوں، تو اس سے نماز میں خشوع وخضوع نصیب ہوگی۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله والنامصة إلخ) ذكره في الاختيار أيضا وفي المغرب (الی قولہ) وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ ومثله في المجتبى تأمل الخ (6/373)۔
کما فی الھندیة: (وآدابها) نظره إلى موضع سجوده حال القيام وإلى ظهر قدميه حالة الركوع وإلى أرنبته حالة السجود وإلى حجره حالة القعود الخ (1/73)۔