نجاسات اور پاکی

زخم سے مسلسل خون بہنے کی صورت میں کپڑوں کی پاکی کا حکم

فتوی نمبر :
39320
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

زخم سے مسلسل خون بہنے کی صورت میں کپڑوں کی پاکی کا حکم

ایک شخص کو ایسا زخم ہے، جس سے خون جاری رہتا ہے اور اکثر اوقات کپڑوں پر بھی لگ جاتا ہے، کیا وہ انہیں کپڑوں‬‎ ‎‫میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ کیونکہ ہر نماز کے وقت کپڑے تبدیل کرنا اس کیلئے نا ممکن ہے ؟‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

‎‎‫ مذکور شخص کے زخم سے اگر اس قدر تسلسل سے خون نہ بہتا ہو کہ اس کی وجہ سے اسے ‬‎ ‎‫پور ے وقت میں بھی کامل طہارت کے ساتھ فقط فرض نماز پڑھنے کا موقع میسر نہ ہو، بلکہ کبھی کبھار زخم سے خون آتا ہو ، تو ایسی صورت میں مذکور شخص شرعاً معذور کے حکم میں داخل نہیں ، اس لئے اسے ہر نماز سے قبل پاک کپڑے پہننا یا مذکور کپڑوں کو دھو کرپاک کرنا لازم اور ضروری ہے۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث (و لو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرة (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل (و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه اھ (1/305)۔
و فی رد المحتار : تحت (قوله : و نحوہ) کالبدن و المکان اھ (1/302)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39320کی تصدیق کریں
0     1222
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات