میرے والد چاہتے ہیں کہ میں اپنی کزن سے شادی کروں(پھوپھی کی بیٹی) جس کی عمر سولہ(16) سال ہے اور میں پچیس سال کا ہوں،لیکن میری والدہ اس شادی پر متفق نہیں،وہ کہتی ہیں کہ میں اپنی مذکور کزن سے شادی نہ کروں،براہِ مہربانی جواب دیجئے۔
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ اس کی والدہ مذکور رشتہ کے لئے راضی کیوں نہیں ہیں،تاہم مذکور رشتہ دونوں کے حق میں مناسب ہو اور سائل اور اس کے والد اسی رشتہ کے خواہاں ہوں اور لڑکا،لڑکی دونوں ہم پلہ بھی ہوں تو سائل کی والدہ کو چاہیئے کہ بلاوجہ اولاد کی پسند کو نظر انداز نہ کرے ،جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ اپنے بڑوں کے ذریعے حکمتُ وبصیرت کے ساتھ والدہ کو مناتے ہوئے اس رشتے کے لئے راضی کرنے کی کوشش کرے اور پنج وقتہ نمازوں کے اہتمام کے ساتھ اللہ سے دعا بھی کرتا رہے،اور سورۃ طہ کی آیت نمبر 131۔132 کاغذ پر لکھ کر کسی چمڑے میں سلوا کر بازو پر باندھ لے،ان شاء اللہ مفید رہے گا،اگر اس کے باوجود بھی والدہ کی طرف سے انکار ہی کی صورت ہو تو سائل کو چاہیئے کہ اپنے لئے کسی ایسی جگہ رشتہ کا انتخاب کرے،جس میں سائل کے والد اور والدہ دونوں کی رضامندی شامل ہو،تاکہ والدین کی دعاؤں سے محروم نہ رہے۔