السلام علیکم مولوی صاحب،میرا نکاح ہوا ہے لیکن کچھ وقت سے ہمارے درمیان معاملات دن بہ دن خراب ہورہے ہیں بات یہاں تک آئی ہے کہ طلاق کے سوا ابھی کچھ نہیں بچا ہے اور بیوی طلاق مانگ رہی ہے لیکن میں طلاق نہیں دیتا. لہذا مولوی صاحب کافی وقت سے میں پریشان ہوں ابھی کیا کرو میں ایسا کوئی وظیفہ یا کوئی اور اسلامی طریقہ ہے جس سے ہمارا رشتہ واپس صحیح ہو جائے اور ہم شادی کرے بہت بہت شکریہ آپ کی رہنمائی کا انتظار رہےگا مجھے.
سائل نے سوال میں بیوی کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلافات اور معاملات کی خرابی کی کوئی وجہ نہیں بتائی تاکہ اس کے مطابق رہنمائی کی جاسکتی ،تاہم اگر دونوں میاں بیوی کے درمیان چھوٹی موٹی معمولی باتوں کیوجہ سے اختلاف اور تنازعات پیدا ہوئے ہوں تو اولا تو میاں بیوی میں سےہر ایک کو چاہئے کہ چھوٹی موٹی معمولی باتوں کا نظر انداز کرکے شریعت کی طرف سے ایک دوسرے پر عائد کردہ حقوق کی ادائیگی کی فکر کرکے اس مقدس رشتے کو نبانے کی کوشش کریں،بلاکسی شرعی عذر کے طلاق کےذریعے اس رشتے کو ختم نہ کریں،اور اس کے ساتھ ساتھ سائل کو چاہئے کہ ہر فرض نماز کے بعد درج ذیل آیت مبارکہ کا گیارہ مرتبہ ورد کرکے اپنی ازدواجی زندگی کی بہتری کے لئے دعاؤں کا اہتمام کرے،ان شاء اللہ امید ہے کہ سائل اور اس کی بیوی کے تعلقات حسب سابق درست ہوجائیں۔
﴿وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً مَّا أَلَّفَتْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾