نجاسات اور پاکی

فرش کی پاکی اور ناپاکی کا حکم

فتوی نمبر :
39081
| تاریخ :
2020-01-14
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

فرش کی پاکی اور ناپاکی کا حکم

میں روزانہ اپنے فرش کو صاف کرتی ہوں، لیکن بسا اوقات باتھ روم کے جوتے فرش پر لائے جاتے ہیں، جو گیلے ہو سکتے ہیں، کچھ مٹی بھی آتی ہے، بیرونی استعمال شدہ جوتوں کے ساتھ جو شاید ناپاک ہو یا نہ ہو، لہٰذا بہت صاف نظر نہیں آتا ،اگر ابھی میں فرش پر پاؤں رکھوں تو کیا یہ پاؤں نجس ہوگا؟ مجھے عدم اطمینان کا شبہ ہے، جس نے میری زندگی کو جہنم بنا دیا ہے، جلد از جلد جواب دے اور مجھے کیا کرنا ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کو چاہیئے کہ بلاوجہ وساوس میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ فرش پر واقعی کوئی ناپاکی ہو ، وہاں گیلے پیر بغیر چپل کے نہ رکھے، اور جو جگہ خشک ہو یا محض ناپاکی کا شبہ ہو ، و اس پر بغیر چپل پاؤں رکھنے میں بھی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: ولو وضع رجله المبلولة على أرض نجسة أو بساط نجس لا يتنجس وإن وضعها جافة على بساط نجس رطب إن ابتلت تنجست ولا تعتبر النداوة هو المختار كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الفتاوى اھ (1/ 47)
وفی الدر المختار: نام أو مشى على نجاسة، إن ظهر عينها تنجس وإلا لا. ولو وقعت في نهر فأصاب ثوبه، إن ظهر أثرها تنجس وإلا لا. لف طاهر في نجس مبتل بماء إن بحيث لو عصر قطر تنجس وإلا لا. ولو لف في مبتل بنحو بول، إن ظهر نداوته أو أثره تنجس وإلا لا اھ (1/ 345)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: مشى في حمام ونحوه) أي: كما لو مشى على ألواح مشرعة بعد مشي من برجله قذر لا يحكم بنجاسة رجله ما لم يعلم أنه وضع رجله على موضعه للضرورة فتح. وفيه عن التنجيس: مشى في طين أو أصابه ولم يغسله وصلى تجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة؛ لأنه المانع إلا أن يحتاط اھ (1/ 350) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہد عظمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39081کی تصدیق کریں
0     1143
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات