مباحات

کافر کے پسینے اور ہاتھ لگی ہوئی چیزکا حکم

فتوی نمبر :
39062
| تاریخ :
2020-01-13
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کافر کے پسینے اور ہاتھ لگی ہوئی چیزکا حکم

میں جس سکول میں پڑھتا ہوں ،وہاں میری جماعت کا ایک لڑکا جو میرا دوست ہے، وہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا ہے، تو ہم سب ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، تو کیا اُس کا پسینہ لگنے سے غسل واجب ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ گرمی میں ساتھ کھیلتے ہیں، تو ہاتھ وغیرہ لگ جاتا ہے، اور کیا اُس کی ہاتھ لگی ہوئی چیز کھا سکتے ہے، یا نہیں؟ اُس کا جھوٹا پی سکتے ہے یا نہیں؟ کیونکہ وہ ہمارا ہاتھ لگاہوا کھا تا بھی ہے اور جھوٹا پیتا بھی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کافر اعتقادی طور پر نجس ہے، مگر اس کا ظاہری بدن نجس نہیں، لہٰذا مذکور صورت میں سائل کا اپنے مذکور غیر مسلم کلاس فیلو کے ساتھ کبھی کبھی کھانا کھانے، یا اس کے ساتھ کھیلنے میں حرج نہیں، اور اس کا پسینہ بھی پاک ہے، تاہم اس کے ساتھ اس طرح دوستی رکھنا کہ ،اس کے کفر کی نفرت ختم ہو، درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی عمدة القاري: وقد عقد الباب له، أن المؤمن لا ينجس وأنه طاهر سواء كان جنبا أو محدثا حيا أو ميتا، وكذا سؤره وعرقه ولعابه ودمعه وكذا الكافر في هذه الأحكام اھ (3/ 239)
وفی بدائع الصنائع: (أما) السؤر الطاهر المتفق على طهارته فسؤر الآدمي بكل حال مسلما كان أو مشركا، صغيرا أو كبيرا ذكرا أو أنثى، طاهرا أو نجسا حائضا أو جنبا، إلا في حال شرب اھ (٤٣/١) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
موسی عبدالحمید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39062کی تصدیق کریں
0     981
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات