عزت ماٰب مفتی صاحب! السلام علیکم!
میں سپائل ٹیومر سرجری کی وجہ سے عرصہ تین سال سے مفلوج ہوں اور بیڈ پر ہوں، پیشاب کی نالی لگی ہوئی ہے اور مجھے قدرتی طریقہ سے پاخانہ نہیں آتا، بلکہ تین چار روز کے بعد ادویات استعمال کرنے سے پیمپر میں پاخانہ آتاہے، اس کے بعد مجھے صفائی اور غسل وغیرہ کے لیے کم از کم دو آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے،جو مجھے اُٹھا کر واش روم لے جاتے ہیں،اور وہاں کموڈ پر بٹھا کر پیمپر اُتارتے ہیں اور میری صفائی میں مدد کرتے ہیں اور اس کے بعد مجھے کرسی پر بٹھاتے ہیں،اور میں غسل کرتاہوں، غسل کرنے کے بعد اسی طرح وہ مجھے اُٹھا کر واپس بیڈ پر لٹاکر پیمپر پہناتے ہیں، اس کے بعد کبھی کبھار کچھ وقت کے بعد دوبارہ تھوڑا سا پاخانہ پیمپر میں نکل آتاہے، جو میں دوبارہ دو آدمیوں کی مدد سے کموڈ پر بیٹھ کر دھو کر پھر نیا پیمپر پہنتا ہوں، بعض دفعہ صرف ایک داغ کی شکل میں پیمپر پر پاخانے کا دبہ لگ جاتاہے ،سوال یہ ہے کہ کیا میں اس داغ کو گیلے کپڑے سے صاف کرکے دوبارہ پیمپر استعمال کرسکتاہوں اور پاخانے والی جگہ کو گیلے کپڑے سے صاف کرسکتاہوں؟ کیونکہ بار بار دو آدمیوں کا بنددوبست کرنا مشکل ہے؟
اگر پیمپر پر بہت معمولی مقدار میں دھبے کی صورت میں پاخانہ لگ گیا ہو تو ایسے پیمپر کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ پاخانہ کے داغ کو کسی کپڑے وغیرہ سے صاف کرکے نماز پڑھنا بھی جائز اور درست ہے۔
کما فی الهندیة: ولو کان رأس ذکره نجسا بالبول لا یطهر بالفرك کذا فی میحط السرخسی وإن أصاب بدنه لا یطهر إلا بالغسل رطبا کان أو یابسا وهو مروی عن أبی حنیفة رحمه اللہ کذا فی الکافی ناقلا عن الأصل وهکذا فی فتاوی قاضی خان والخلاصة قال مشایخنا یطهر بالفرك لأن البلوی فیه أشد کذا فی الهدایة. اھ (۱/ ۴۴)
وفیه ایضًا: کل ما یخرج من بدن الإنسان مما یوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ کالغائط والبول والمنی والمذی والودی والقیح والصدید والقیئ إذا ملأ الفم کذا فی البحر الرائق (الٰی قوله) فإذا أصاب الثوب أکثر من قدر الدرهم یمنع جواز الصلاة کذا فی المحیط. اھ (۱/ ۴۶) واللہ اعلم بالصواب!