نجاسات اور پاکی

سلسل البول کی بیماری میں مبتلا شخص پاکی کیسے حاصل کرے؟

فتوی نمبر :
37952
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

سلسل البول کی بیماری میں مبتلا شخص پاکی کیسے حاصل کرے؟

اگر کوئی شخص سلسل البول کی بیماری میں مبتلا ہو اور مکمل طور پر پیشاب کے قطرات سے پاکی حاصل نہ ہوتی ہو تو وہ حج کس طرح کرے گا؟کیا ہر نماز کے لئے نئے کپڑے پہننا اور غسل کرنا ضروری ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اگر کوئی شخص سلسل البول کی بیماری میں مبتلا ہو،اس طور پر کہ کسی ایک نماز کے پورے وقت میں اس کے لئے اتنا وقت بھی نہ مل سکتا ہو کہ جس میں وہ وضو کرکے فرض نماز ادا کرسکے تو ایسا شخص شرعاً معذور شمار ہوگا اور معذور شخص کا حکم یہ ہے کہ وہ ایک وضو سے وقت کے اندر فرض،واجب اور نفل نمازوں کے علاوہ طواف بھی کرسکتا ہے،تاہم جب ایک نماز کا وقت ختم ہوجائے تو دوسرے وقت کے لئے نیا وضو کرکے نماز اور دیگر عبادات(طواف وغیرہ)بجا لاسکتا ہے، ایسے معذور شخص کے لئے کپڑے پاک رکھنا ضروری ہے،نئے کپڑے پہننا اور ہر مرتبہ غسل کرنا کوئی ضروری نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد(الیٰ قوله) (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث(الیٰ قوله) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق اھ(1/305)۔
وفیه ایضاً: (وغیرھا سنن وآداب)کان یتوسع فی النفقة ویحافظ علیٰ الطھارة اھ(2/471)۔
وفی غنیة الناسك: واذا خرج من الطواف او من السعی لغیر عذر ثم عاد یستحب الاستیناف سواء کان ذلك قبل اتیان اکثرہ او بعدہ لانه فعله علیٰ وجه مکرر وصاحب عذر الدائم اذا طاف اربعة اشراط ثم خرج الوقت توضا وبنی ولاشیئ علیه وکذا اذا طاف اقل منھا الا ان الاعادة حینئذ افضل اھ(ص/68)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37952کی تصدیق کریں
1     854
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات