احکام نماز

قعدۂ اولی میں بھول سےسلام پھیردینا-عملِ کثیر کی تعریف-نماز میں شک کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام

فتوی نمبر :
37814
| تاریخ :
2019-07-18
عبادات / نماز / احکام نماز

قعدۂ اولی میں بھول سےسلام پھیردینا-عملِ کثیر کی تعریف-نماز میں شک کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام

السلام علیکم!
۱۔نماز میں درمیانی تشہد میں دونوں طرف یا ایک طرف سلام پھیر دیا ، لیکن اسی وقت یاد آگیا اور اگلی رکعت کے لۓ کھڑے ہوگیا اور سجدۂ سہو سے نماز پوری کر لی، کیا ایسی نماز درست ہوگی؟
۲۔چار رکعت نماز میں غلطی سے تیسری رکعت میں بیٹھ گیا ، اور تشہد میں دعا کے بعد دونوں طرف یا ایک طرف سلام پھیرا ، لیکن اسی وقت یاد آیا اور اگلی رکعت کے لۓ کھڑے ہوگیا اور سجدۂ سہو سے نماز پوری کر لی، کیا ایسی نماز درست ہوگی؟
۳۔ نماز کی آخری تشہد میں اس تذبذب کا شکار ہوا کہ پہلا تشہد ہے یا آخری تشہد ؟ تو پھر کچھ بھی سمجھ نہ آنے پر اس تشہد کو پہلا تشہد تسلیم کرتے ہوئے عام طریقے سے نماز ادا کی اور آخر میں سجدۂ سہو کر لیا ، اب یہاں پر اگر تو کل چار رکعت ادا ہوئیں ، تو پھر درمیان میں تشہد اور آخر میں تشہد کیا ، جبکہ دوسری صورت میں اگر کل چھ رکعت ہوئیں تو دوسری رکعت میں تشہد ہوا ، چوتھی میں تشہد ہو ا اور آخر میں ہو ا ، دونوں صورتوں میں سجدۂ سہو سے کیا نماز درست ہو جائےگی؟
۴۔اکثر عشاء کے وتر کے آخری تشہد میں تذبذب کا شکار ہو جاتا ہوں کہ دعائے قنوت پڑھی تھی یا نہیں؟ جب کسی بھی طرف غلبہ نہیں ہوتا ، تو میں اس کو اپنا وہم سمجھ لیتا ہوں ، تو ایسی صورت حال میں سجدۂ سہو کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ کیا ایسی نماز درست ہوگی ؟
۵۔کبھی کبھی نماز میں ایسا ہوتا ہےکہ پہلی رکعت میں ہی تذبذب کا شکار ہو جاتا ہوں کہ ثناء پڑھی تھی یا نہیں اور کسی طرف بھی غلبہ نہیں ہوتا ، تو ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے؟
۶۔نماز میں اکثر سورتِ فاتحہ یا بعد والی سورت ، تشہد ، درود شریف، یا دعا میں بھی کبھی کبھی بھول جاتا ہوں کہ کیا پڑھ رہا ہوں ، تو پھر اسی متعلقہ چیز کو شروع سے پڑھنے لگ جاتا ہوں ، کیا ایسی صورتِ حال میں سجدۂ سہو کی ضرورت ہوگی؟
۷۔کیا نماز میں عملِ کثیر سے نماز بالکل ٹوٹ جاتی ہے؟ نیز عملِ کثیر کی وضاحت فرما دیں۔
۸۔کبھی نماز کی نیت کرتے وقت ، دل کو متوجہ کرکے دل میں نیت کرنا بھول جاتا ہوں اور ثناء یا سورتِ فاتحہ میں یاد آگیا تو دل کو باخبر کر دیتا ہوں کہ فلاں نماز پڑھ رہا ہوں ، کیا ایسی نماز درست ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱، ۲) نماز میں درمیانی تشہد میں یا تیسری رکعت میں غلطی سے تشہد میں بیٹھ کر سلام پھیرنے کے بعد یاد آنے پر ، آخر میں سجدۂ سہو کے ساتھ نماز پوری کرنے سے نماز درست ادا ہوجاتی ہے۔
۳۔دونوں صورتوں میں آخر میں سجدۂ سہو کرنے سے نماز درست ادا ہوجائے گی۔
۴۔ایسی صورت میں سجدۂ سہو کر لینا چاہیۓ، ان شاء اللہ نماز درست ادا ہو جائے گی۔
۵، ۶۔سائل کو چاہیۓ کہ نماز کو دھیان سے پڑھے، تو اس طرح کی نوبت نہیں آئےگی، تاہم اگر پھر ایسی صورت پیدا ہو جائے تو اپنی نماز کو جاری رکھے اور فاتحہ ، سورت وغیرہ کو دوبارہ نہ دہرائے۔
۷۔جی ہاں! عملِ کثیر سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، جبکہ عملِ کثیر کہتے ہیں نماز میں ایسا عمل کرنے کو ، جو عموماً دونوں ہاتھوں سے انجام دیا جاتا ہو اور دیکھنے والا سمجھے کہ یہ نماز نہیں پڑھ رہا ۔
۸۔دل کو متوجہ کیے اور مخصوص نماز کا قصد کیے بغیر ، محض تکبیر کہہ دینے سے نماز درست نہیں ہوتی ، اس لۓتکبیر سے پہلے ہی اس کا اہتمام ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (سلم مصلي الظهر) مثلا (على) رأس (الركعتين توهما) إتمامها (أتمها) أربعا (و سجد للسهو) لأن السلام ساهيا لا يبطل اھ (2/ 91)۔
و فی الدر المختار : (و إذا شك) في صلاته (إلی قوله) (و إن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (و إلا أخذ بالأقل) لتيقنه (و قعد في كل موضع توهمه موضع قعوده) و لو واجبا لئلا يصير تاركا فرض القعود أو واجبه اھ (2/ 93)۔
و فی الدر المختار : (و) اعلم أنه (إذا شغله ذلك) الشك فتفكر (قدر أداء ركن و لم يشتغل حالة الشك بقراءة و لا تسبيح) ذكره في الذخيرة (وجب عليه سجود السهو في) جميع (صور الشك) اھ (2/ 94)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله واعلم إلخ) قال في المنية و شرحها الصغير : ثم الأصل في التفكر أنه إن منعه عن أداء ركن كقراءة آية أو ثلاث أو ركوع أو سجود أو عن أداء واجب كالقعود يلزمه السهو (إلی قوله) و دخل في قوله أو عن أداء واجب ما لو شغله عن السلام لما في الظهيرية : لو شك بعد ما قعد قدر التشهد أصلى ثلاثة أو أربعا حتى شغله ذلك عن السلام ثم استيقن و أتم صلاته فعليه السهو . اهـ . و علله في البدائع بأنه أخر الواجب و هو السلام . اهـ (2/ 93)۔
و فی الفتاوى الهندية : و لو علم أنه أدى ركنا و شك أنه كبر للافتتاح أولا أو هل أحدث أولا أو هل أصابت النجاسة ثوبه أولا أو مسح رأسه أم لا استقبل إن كان أول مرة و إلا مضى و لا يلزم الوضوء و لا غسل ثوبه ، كذا في فتح القدير . (1/ 131)۔
و فی الفتاوى الهندية : العمل الكثير يفسد الصلاة و القليل لا . كذا في محيط السرخسي (إلی قوله) (الأول) أن ما يقام باليدين عادة كثير و إن فعله بيد واحدة كالتعمم و لبس القميص و شد السراويل(الی قولہ) أنه لو نظر إليه ناظر من بعيد إن كان لا يشك أنه في غير الصلاة فهو كثير مفسد و إن شك فليس بمفسد و هذا هو الأصح . هكذا في التبيين و هو أحسن . كذا في محيط السرخسي و هو اختيار العامة كذا في فتاوى قاضي خان و الخلاصة اھ (1/ 102)۔
و فی الفتاوى الهندية : و النية المتقدمة على التكبير كالقائمة عند التكبير إذا لم يوجد ما يقطعه و هو عمل لا يليق بالصلاة . كذا في الكافي . (إلی قوله) و لا يعتد بالنية المتأخرة عن التكبير . كذا في التبيين . (1/ 67)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37814کی تصدیق کریں
0     602
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات