احکام نماز

فرض نماز کے بعد فوراً فضائلِ اعمال کی تعلیم کرنا

فتوی نمبر :
37767
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

فرض نماز کے بعد فوراً فضائلِ اعمال کی تعلیم کرنا

السلام علیکم!
میرا نام محمد ناصر ہے میرا تعلق جزوی طور پر دعوت و تبلیغ سے ہے،اگرچہ میرا وقت نہیں لگا، لیکن میں روزانہ کی بنیاد پر مقامی اعمال میں بھر پور شرکت کرتا ہوں، کیوں کہ دعوت و تبلیغ ہم جیسے دنیا داروں کے لئے خود احتسابی اور دین سیکھنے کا آسان اور بھر پور ذریعہ ہے، آپ کے علم میں ہو گا کہ ایک عمل عشاء کی نماز کے بعد تعلیم کا ہوتا ہے، جو کہ”فضائل اعمال“ سے کیا جاتا ہے، ہمارے ایک ساتھی تعلیم کے متعلق یہ کہتے کہ تمام ساتھی اپنی بقیہ نماز موقوف کر کے یعنی عشاء کے فرائض کے بعد , فوری طور پر تعلیم میں شرکت کریں، کیوں کہ وہ یعنی نماز قطرہ ہے اور یہ یعنی تعلیم سمندر ہے، اب میرا پہلا سوال یہ ہے کہ یہ تعلیم کا عمل علماءِ کرام کا اجتہاد ہے، جو کہ غالباً سن 1928 میں شروع کیا گیا، اس نماز سے بڑھ کر کیسے ہو سکتا ہے جو کہ اللہ کا حکم ہے ، اس سلسلے میں ہماری راہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کہنا غلو نہیں ہے؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے اس طرح کے سوال کرنے کو کیا یہ کہنا درست ہے کہ یہ سارے سوال کرنا اشکالات پیدا کرتا ہے، یہ صرف وہم ہے اور وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس نہیں تھا، میرا سوال کرنے کا مقصد کسی کی حوصلہ شکنی نہیں ہے، مقصد صرف یہ ہے کہ دین کے بارے میں علماءِ کرام سے راہنمائی کی جائے اور دین پر صحیح عمل کیا جا سکے، اللہ رب العزت ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکورہ باتیں بلاشبہ غلو پر مبنی ہیں، مگر تبلیغی جماعت میں زیادہ تعداد عوام الناس کی ہے، اس لئے ان کے ساتھ الجھنے کے بجائے حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی ضرورت ہے اور جماعت کے متعلقہ ساتھیوں کو بھی چاہئیے کہ فضائل کی تعلیم میں عوام کی اکثریت کو شریک کرنے کے لالچ میں اعمال سے لوگوں کو منع کرنے سے اجتناب کریں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ عشاء کی فرض نماز کے بعد”فضائلِ اعمال“ کی تعلیم کی وجہ سے سنتوں میں تاخیر کرنا تو درست نہیں، بلکہ نماز کے بعد فوراً سنتیں ادا کرنی چاہئیے، البتہ اگر کوئی شخص وتر کو بعد میں پڑھنا چاہے اور وتر پڑھنے سے قبل تعلیم میں شریک ہو جائے، تو اس کا یہ عمل بھی درست ہے، لیکن جو لوگ فرض نماز کے بعد سنت، وتر یا نوافل میں مشغول ہوں، انہیں فضائلِ اعمال کی تعلیم میں شرکت نہ کرنے پر ملامت کرنا بھی درست نہیں، جس سے احتراز کرنا چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالىٰ: {ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔ الآیة} [النحل: 125]
وفي الدر المختار: ويكره تأخير السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. اھ (1/ 530)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37767کی تصدیق کریں
0     793
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات