نجاسات اور پاکی

واش بیسن میں بچوں کا پاخانہ دھونے کا حکم

فتوی نمبر :
37712
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

واش بیسن میں بچوں کا پاخانہ دھونے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ الله و بركاتہ! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ:
1: بچوں کی پوٹی ہم (washbasin) واش بیسن پر / میں دھو سکتے ہیں ، جہاں ہم اپنا منہ دھوتے ہیں اور برش وغیر ہ کرتے ہیں ، کیوں کہ بچے کو دھونے کے بعد اگر آپ برش کرتے یا ہاتھ منہ دھوتے ہیں، تو پوٹی والا پانی آپ پر گرتا ہے ، تو آپ ناپاک ہو جاتے ہیں اور بغیر غسل آپ نماز نہیں پڑھ سکتے اور اگر پڑھیں گے تو گناہ ہو گا اور اسی جگہ پر (اسی واش بیسن پر) وضو کرنا جائز ہے یا نہیں (2): اگر کوئی بھی غلاظت (بچے کی پوٹی / پیشاب یا مني وغیرہ) میٹرس/ بستر پہ لگ جائے ، تو اسےدھونا ضروری ہے یا خشک ہونے پر استعمال کر سکتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(ا) : واضح ہو کہ اولاً تو نجاست والے کپڑے وغیر ہ دھونے کیلئے واش بیسن کے علاوہ کسی الگ جگہ کا انتخاب کرنا چاہیئے کہ یہ نفاست کے زیادہ قریب ہے ، تاہم اگر کبھی واش بیسن کے علاوہ کہیں اور صاف کرنے کا انتظام نہ ہو سکے تو واش بیسن میں دھونے کے بعد پانی بہا کر واش بیسن کو خوب صاف کیا جائے اور اسکے بعد وضو و غیر ہ کیا جائے ، تو یہ بھی درست ہے۔
(۲) : جبکہ نجاست ( پیشاب ، منی وغیرہ ) کپڑا بیڈ شیٹ میٹرس وغیرہ پر لگنے کی صورت میں اس کو پاک کرنے کیلئے دھونا ضروری ہے ،محض خشک ہونے سے پاک نہ ہو گا، جبکہ نماز کے علاوہ استعمال کیلئے اسے پاک لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبي داؤد : عن عبدالله بن مغفل ، قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لا يولن أحدكم في مستحمه ثم يَغْتَسِلُ فِيهِ قَالَ احمد ثم يتوضأ فِيهِ فَإِنْ عَامَةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ اھ (1/14)۔
و فى الھداية للمرغيناني : و فى الرطب لا يجوز حتى يغسله لأن المسح بالأرض يكثره و لا يطهره (إلى قوله) فإن أصابه بول فيبس لم يجز حتى يغسله و كذا كل ما لا جرم له كالخمر لأن الأجزاء تتشرب فيه و لا جاذب يجذبها اهـ (1/45)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37712کی تصدیق کریں
0     916
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات