احکام نماز

چھوٹے بچے کی گمشدگی کے ڈر سے فرض نمازتوڑنا

فتوی نمبر :
37541
| تاریخ :
2019-05-18
عبادات / نماز / احکام نماز

چھوٹے بچے کی گمشدگی کے ڈر سے فرض نمازتوڑنا

جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
دورانِ فرض نماز ، مدینہ منورہ کے اندر ، مسجدِ نبوی میں میرا چھوٹا بچہ جو کہ نابالغ اور اُس وقت بول نہیں سکتا تھا ، اچانک اُٹھ کر کہیں چلا گیا، اُس وقت میں حالتِ سجدہ میں تھا ، جب تشہد میں بیٹھا تو احساس ہوا کہ وہ اپنی جگہ پر نہیں ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں ماشاء اللہ ہجوم بہت ہوتا ہے وہاں پر ، نماز ختم کرکے بہت تلاش کرنے پر الحمد للہ مل گیا ، سوال یہ ہے کہ ایسی کسی صورتِ حال کا سامنا ہونے پر کیا نماز جاری رکھی جائے ، جبکہ گم ہونے کا قوی امکان ہو ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہجوم میں بچے کے گم ہونے کا قوی اندیشہ ہو ، تو نماز توڑنے کی اجازت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين : و يباح قطعها لنحو قتل حية ، و ند دابة ، و فور قدر ، و ضياع ما قيمته درهم له أو لغيره . و يستحب لمدافعة الأخبثين ، و للخروج من الخلاف إن لم يخف فوت وقت أو جماعة و يجب لإغاثة ملهوف و غريق و حريق ، لا لنداء أحد أبويه بلا استغاثة إلا في النفل ، فإن علم أنه يصلي لا بأس أن لا يجيبه، و إن لم يعلم أجابه اھ (1/ 654)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و يستحب لمدافعة الأخبثين) كذا في مواهب الرحمن و نور الإيضاح ، لكنه مخالف لما قدمناه عن الخزائن و شرح المنية ، من أنه إن كان ذلك يشغله أي يشغل قلبه عن الصلاة و خشوعها فأتمها يأثم لأدائها مع الكراهة التحريمية ، و مقتضى هذا أن القطع واجب لا مستحب . و يدل عليه الحديث المار «لا يحل لأحد يؤمن بالله و اليوم الآخر أن يصلي و هو حاقن حتى يتخفف» اھ (1/ 654)۔
و فیها أیضا : (قوله و يجب) الظاهر منه الافتراض ط (قوله لإغاثة ملهوف) سواء استغاث بالمصلي أو لم يعين أحدا في استغاثته إذا قدر على ذلك ، و مثله خوف تردي أعمى في بئر مثلا إذا غلب على ظنه سقوطه إمداد اھ (1/ 654)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فروخ عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37541کی تصدیق کریں
0     536
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات