احکام نماز

اندھیرے میں نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
37483
| تاریخ :
2019-05-05
عبادات / نماز / احکام نماز

اندھیرے میں نماز پڑھنے کا حکم

1۔ مکمل اندھیرے بغیر کسی روشنی والے کمرے میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
2- اگر باہر سے کچھ روشنی آرہی ہو تو اندھیرے کمرے میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
3۔ عورت اور مرد کا اندھیرے کمرے میں نماز پڑھنے کا فرق ہے یا نہیں؟
4۔ آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مکمل اندھیرے میں ڈوبے یا ایسے کمرہ میں جس میں کچھ روشنی باہر سے پڑھ رہی ہو نماز پڑھنا جائز اور درست ہے بشرطیکہ قبلہ مشتبہ نہ ہوتا ہو یا کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو، جبکہ آنکھیں کھول کر نماز پڑھنا مستحب ہے تاہم اگر کوئی شخص خشوع و خضوع کے حصول کے لئے آنکھیں بند کرلے تو یہ بھی جائز ہے اور ان مسائل میں میں مرد و عورت کا کوئی فرق نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي رد المحتار: تحت قوله لتحصيل الخشوع ( علة للجميع لان المقصود الخشوع و ترك التكليف فاذا تركه صار ناظرا الى هذه المواضع قصد أو لا و فى ذالك حفظ له عن النظر الى ما يشغله ( الى قوله ) واذا كان في الظلام او كان بصيرا يحافظ على عظمة الله تعالى لان المدار عليها وتمامه في الامداد اذا كان المقصود الخشوع فاذا كان فى هذه المواضع ما ينافيه يعدل الى ما يحصله فيها -(478/1)۔
و في حاشية الطحطاوي على مراقى الفلاح: ومنها ( نظر المصلى ) سواءكان رجلا او امراة ( الى موضع سجوده قائما) حفظا له عن النظر لي ما يشغله عن الخشوع (الى قوله) واذا كان بصيرا أو فى ظلمة فيلاحظ عظمة الله تعالى اھ (151)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37483کی تصدیق کریں
0     1236
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات