احکام نماز

مغلوب الحال مریض کی نمازکاحکم

فتوی نمبر :
37392
| تاریخ :
2019-04-08
عبادات / نماز / احکام نماز

مغلوب الحال مریض کی نمازکاحکم

مریض اس کو وقت کی پہچان نہیں، آئے گئے کا پتا نہیں، کبھی کبھار مکمل بے ہوشی کی حالت اور کبھی کبھی تھوڑا سا افاقہ ہوتا ہے، کیا ایسے مریض پر نماز فرض ہے؟ اگر ہے تو کیا کیا جائے اگر فدیہ ہے تو فدیہ کا نصاب اور مصرف بتائیں مریض کو اس حالت میں آٹھ ماہ ہو گئے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر مذکور شخص اکثر وقت بے ہوش رہتے ہوں اور ان کی یہ بے ہوشی ایک دن ایک رات تک لمبی ہو جاتی ہو تو اس کو اس دن کی نماز معاف ہے اور اگر ایسی حالت نہ ہو، بلکہ کچھ دیر کے لیے بے ہوشی ہوتی ہو پھر افاقہ ہو جاتا ہو تو نماز معاف نہیں، اس پر لازم ہے کہ نماز لیٹے بیٹھے جس طرح پڑھ سکتا ہو پڑھ لے، تاہم ایسا مریض جو ہوش حواس میں ہو نماز نہ پڑھ سکے، اس کا انتقال ہو جائے تو چھوٹی ہوئی نمازوں کا فدیہ دیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک نماز کا فدیہ نصف صاع (پونے دو سیر) گندم یا اس کی قیمت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح) في التتارخانية عن التتمة: سئل الحسن بن علي عن الفدية عن الصلاة في مرض الموت هل تجوز؟ فقال لاوسئل أبو يوسف عن الشيخ الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم وهو حي؟ فقال لا اهـ. وفي القنية: ولا فدية في الصلاة حالة الحياة بخلاف الصوم اهـ. (2/ 74)
وفی الدر المختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة اھ (2/ 72) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37392کی تصدیق کریں
1     791
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات