اگر کوئی شدید گرمی میں تنگ آکر گرمی سے نفرت کا اظہار کرے تو کیاوہ اللہ کی نشانی سے نفرت کا اظہار کر رہا ہے ؟ میں اس بارے میں بہت تشویش میں مبتلا ہوں، اس کا کیا حکم ہے ؟ ہم اکثر گرمی میں بہت تنگ ہوتے ہیں۔
کسی موسم سے تنگ آکر اس کو کچھ کہنے سے اللہ تعالی کی نشانیوں سے نفرت کا اظہار تو نہ ہو گا ،البتہ گرمی ، سردی کو بنانےاور بھیجنے والے کی طرف نسبت کر کے کچھ کہا جائے تو پھر اندیشہ کفر کا ہے،جس سے احتراز چاہیے۔
في مشكاة المصابيح : وعن أبي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله ﷺ قال الله تعالى يؤذيني ابن آدم يسب الدهر وانا الدهر بيدى الأمر اقلب الليل و والنهار متفق عليه اھ (13/1)
و في مرقاة المفاتيح : تحت قوله ( يسب الدهر) يعنى ظنا منه أن الدهر يعطى و يمنع ويضر وينفع( الى قوله) الأظهر أن معناه انا فاعل ما يضاف الى الدمر من الخير والشر والمسرة و المساءة فاذا سببتم الذي تعتقدون انه فاعل ذلک فقد سببتموني (181/1)