احکام نماز

دعائے قنوت میں ’’ما سجدنا قط إلا بین یدیک‘‘ کہنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
37156
| تاریخ :
2019-03-16
عبادات / نماز / احکام نماز

دعائے قنوت میں ’’ما سجدنا قط إلا بین یدیک‘‘ کہنا کیسا ہے؟

عرب ممالک میں قنوت میں جو لمبی دعا ہوتی ہے، اس میں یہ جملہ سننے کو ملتا ہے، ’’ما سجدنا قط إلا بین یدیک‘‘ ایسا کہنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور دعائیہ جملہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’ہم نے کبھی تیرے سوا کسی کے سامنے سجدہ نہیں کیا‘‘۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی المناجاة للشیخ عبد العزیز الدیرانی: وأنا لم یزل مقربن بربو بیتك معترفین بوحدانیتك، ما سجدنا قط إلا بین یدیك، ولا رفعنا حوائجنا إلا إلیك اھ (۱/ ۱۵۳) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37156کی تصدیق کریں
0     863
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات