عرب ممالک میں قنوت میں جو لمبی دعا ہوتی ہے، اس میں یہ جملہ سننے کو ملتا ہے، ’’ما سجدنا قط إلا بین یدیک‘‘ ایسا کہنا کیسا ہے؟
مذکور دعائیہ جملہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’ہم نے کبھی تیرے سوا کسی کے سامنے سجدہ نہیں کیا‘‘۔
ففی المناجاة للشیخ عبد العزیز الدیرانی: وأنا لم یزل مقربن بربو بیتك معترفین بوحدانیتك، ما سجدنا قط إلا بین یدیك، ولا رفعنا حوائجنا إلا إلیك اھ (۱/ ۱۵۳) واللہ أعلم بالصواب!