مباحات

سوشل میڈیا میں سیاسی یا اقتصادی موضوع کے متعلق گفتگو اور قرآنی آیات پیش کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
36831
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

سوشل میڈیا میں سیاسی یا اقتصادی موضوع کے متعلق گفتگو اور قرآنی آیات پیش کرنے کا حکم

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، ہر شخص ہی کسی نہ کسی ایسے نیٹ ورک سے منسلک ہوتاہے جو سینکڑوں افراد پر مشتمل ہوتاہے ہمیں کسی بھی موضوع پر بنائے گئے گروپس پر خواہ وہ عام ہوں یا خاص طور سیاسی موضوعات پر بحث ومباحثہ کیلئے بنائے گئے ہوں، بعض ایشوز کا سامنا کرنا پڑتاہے، جس کے بارے میں ہم آپ سے واضح جواب چاہتے ہیں , ہم چارٹرڈ اکاؤنٹنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ ذیل میں وہ سوالات درج کیے جارہے ہیں جن کے بارےمیں ہمیں واضح جواب کی ضرورت ہے؟
(۱)۔ کیا ایک عام مسلمان کیلئے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ سوشل میڈیا میں زیرِ بحث سیاسی یا اقتصادی معاملات کے متعلقہ قرآنی آیات کے حوالے بمع سادہ ترجمہ کے پیش کرے اور جبکہ وہاں اسلام مخالف تصورات کو ابھارا گیا ہو؟ مذکور عام مسلمان شاید ایک تعلیم یافتہ اسکالر (عالم) تو نہ ہو، مگر اس نے مختلف ممتاز اسکالرز کے سے قرآنی تعلیم حاصل کی ہو اور قرآنی حوالوں کو ان کی درست تفسیر کے ساتھ ہی پیش کرتا ہو جو بہترین تفاسیر کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جیسے تفسیر ابن کثیر
بعض اوقات حوالے بالکل آسان اور واضح ہوتے ہیں اور ان سے مسلمانوں کے بعض خاص قسم کے اعمال کی وجہ سے ان کا کفر کی حدتک پہنچ جانا معلوم ہوتاہے، کیا یہ بات درست ہے کہ ان قرآنی آیات کا حوالہ مذکور مسلمانوں پر کفر کا اطلاق کیے بغیر پیش کیا جائے؟
(۲)۔ اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو ان قرآنی آیات کو خوب جانتاہے جن کا تعلق سیاسی یا اقتصادی بے راوہ روی سے ہے، مگر وہ خاموش رہے اور قرآنی آیات کے ذریعے حق کے دفاع سے گریز کرے؟
(۳)۔ چارٹرڈ اکاؤنٹس کی حیثیت سے ہم اس بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ ایک مسلمان ایسے آدمی، جماعت یا تعلیم کی غیر مشروط حمایت کرتاہے جنہوں نے سودی بنیادوں پر معیشت کے قیام کے حلال ہونے کا واضح طور پر اعلان کیاہے اور اس کو رواج دینے کی بھی کوششیں کی ہیں؟
(۴)۔ ان مسلمانوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جو کسی مسلمان کو صرف اس بناء پر باغی کہہ دیتے ہیں کہ وہ لوگوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی دیدہ دلیرہ سے کی گئی نافرمانی کے سبب آنے والے دردناک عذاب سے خبردار کرتاہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱)۔ سوشل میڈیا میں سیاسی یا اقتصادی موضوع کے متعلق گفتگو اگر محض بحث برائے بحث ہو (جیساکہ عموماً عوام الناس کی گفتگو میں ہوتاہے)، اور اس میں کسی کی اصلاح ہونے کی توقع نہ ہو، تو ایسے موقع پر فضول بحث ومباحثہ میں اپنا وقت ضائع کرنا مناسب نہیں، جبکہ اگر اس موقع پر گفتگو کرنے کا کوئی فائدہ معلوم ہورہاہو، تو گروپ میں درست باتیں لکھنا، اور قرآنی آیات یا احادیثِ مبارکہ پیش کرنا درست ہے جس میں کوئی قباحت نہیں، بشرطیکہ ان آیات واحادیث کا صحیح مفہوم پیش کیا جائے، اور ان سے کوئی غلط معانی اخذ نہ کیے جائیں۔
تاہم قرآنی حوالہ کے ذریعے کسی مسلمان پر کفر کا اطلاق کرنا ایک عام مسلمان کیلئے درست نہیں، اگر کسی کے عقائد واعمال اس قسم کے ہوں جن سے کفر واضح ہوتاہو تو اس کے متعلق باضابطہ فتویٰ لے کر فیصلہ کرنا چاہیئے۔
(۲)۔ اگر مذکورشخص ان آیات واحادیث کا صحیح علم رکھتاہو جوکہ معاشرہ میں رائج سیاسی یا اقتصادی خرابیوں کی اصلاح میں معین ہوں تو اس کو چاہیئے کہ مناسب فورم پر لوگوں کو حق سے آگاہی فراہم کرے، ایسے موقع پر محض سیاسی وابستگی کی وجہ سے شریعت کے خلاف بات کے متعلق خاموشی اختیار کرنا درست نہیں۔
(۳)۔ اس لحاظ سے ایسے آدمی یا جماعت کی حمایت کرنا درست نہیں۔
(۴) اللہ کے بندوں کو اس کی فرمانبردای کی ترغیب دینا اور اس کی نافرمانی پر اللہ کے نبیﷺ کی زبانی جن وعیدوں سے ڈرایا گیاہے ان کے ذریعہ تنبیہ کرنا بلا شبہ ہر مسلمان کا اپنی استطاعت کے مطابق فریضہ ہے، اس لئے ایسے شخص کو باغی کہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الجامع الصحیح للبخاری: عن الشعبی حدثنی کاتب المغیرة بن شعبة قال کتب معاویة الی المغیرة بن شعبة أن اکتب الی بشئ سمعته من النبیﷺ فکتب إلیه سمعت النبیﷺ یقول: ان اللہ کره لکم ثلاثًا قیل وقال واضاعۃ المال وکثرة السؤال. (۶۷۹)-
عن طارق بن شهاب وهذا حدیث أبی بکر قال أول من بدأ بالخطبة (الٰی قوله) أما هذا فقد قضی ما علیه، سمعت رسول اللہﷺ یقول: (من رأی منکم منکرا فلیغیره بیده، فان لم یستطع فبلسانه، فإن لم یستطع فبقلبه، وذلك أضعف الایمان. (۱/ ۶۹)-
قال اللہ تعالٰی: ﴿ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان﴾ (المائدة: ۲)-
وفی التفسیر المنیر: والاثم والعدوان یشمل کل الجرائم التی یأثم فاعلها. (۶/ ۶۹)-
کما فی شرح صحیح مسلم للنووی: وروینا عن الاستاذ أبی القاسم القشری رحمه اللہ قال: الصمت بسلامة وهو الاصل والسکوت فی وقته صفة الرجال، کما أن النطق فی موضعه من أشرف الخصال قال: وسمعت أبا علی یقول: من سکت عن الحق فهو شیطان أخرس. (۲/ ۲۰) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36831کی تصدیق کریں
0     523
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات