وتر تہجد میں پڑھنے کا معمول ہے، کسی دن آنکھ دیر سے کھلے اور فجر کا وقت ہورہا ہو تو پہلے وتر پڑھیں گے یا فجر کی نماز جماعت کےساتھ؟ اور اگر فجر کے بعد تو کب سے کب تک ؟ اور قضا کی ہی نیت کرینگے؟
واضح ہو کہ سائل اگر صاحب ترتیب ہو کہ اس کے ذمہ چھ نمازوں کی قضا باقی نہ ہو اور اس کی آنکھ ایسے وقت میں کھلے کہ نماز فجر کا اتنا وقت باقی ہو کہ جس میں وتر اور فجر دونوں نمازیں ادا کرسکتا ہو تو ایسی صورت میں پہلے وتر کی اور بعد میں فجر کی نماز پڑھے اور اگر سائل صاحب ترتیب نہ ہو تو وتر کی قضا فجر کی جماعت سے پہلے بھی پڑھ سکتا ہے اور بعد میں سوائے طلوع آفتاب، غروب آفتاب اور زوال کے وقت کے کسی بھی وقت پڑھ سکتا ہے۔
کمافي الدر المختار: ( الترتيب بين الفروض الخمسة و الوتر اداء و قضاء لازم يفوت الجواز بفوته اھ (٦٥/١)۔
وفي الهداية : ولو فاتته صلوات رتبها فى القضاء الى (قوله )الا ان تزيد الفوائت على ست صلوات (الى قوله) فيسقط الترتيب فيما بين الفوائت نفسها كما سقط بينها وبين الوقتية اهـ (٣٢٥/١)
وفيها ايضا: ويكره ان يتنفل بعد الفجر حتى تطلع الشمس (الى قوله) ولاباس بان يصلى فى هذين الوقتين الفوائت اھـ (١٥٥/١)
وفى الهندية: ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة، وقت طلوع الشمس، ووقت الزوال، ووقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات، كذا في البحر الرائق.(121/1)۔