بلاول چورنگی پر واقع باربی کیو ٹونائٹ ریسٹورنٹ ہے، اس میں نمازِ باجماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے، وہاں نماز باجماعت فٹ پاتھ پر ادا کی جاتی ہے، کبھی کبھار رش ہو جاتا ہے تو بعض نمازی دوسری فٹ پاتھ پر کھڑے ہوجاتے ہیں درمیان میں روڈ حائل ہو جاتا ہے، جس میں گاڑی چلتی ہیں تو دوسری فٹ پاتھ پر موجود نمازیون کی جماعت میں شرکت کا کیا حکم ہے؟ ان کا نماز اس جماعت کے ساتھ ہو جاتا ہے؟
اقتداء کے درست ہونے کے لیے حقیقۃً یا حکماً اتصالِ صفوف لازم ہے، اور صفوف کے درمیان روڈاور سڑک کا حائل ہونا اتصال کے لیے مانع ہے، لہٰذا مذکورہ صورت میں روڈ کی دوسری طرف فٹ پاتھ پر کھڑے نمازیوں کی نماز ادا نہیں ہوگی، اس لیے صفوں کے درمیان اتصال کی کوئی مناسب انتظام ہونا چاہیے۔
ففی الفتاوى الهندية: المانع من الاقتداء ثلاثة أشياء: (منها) طريق عام يمر فيه العجلة والأوقار هكذا في شرح الطحاوي إذا كان بين الإمام وبين المقتدي طريق إن كان ضيقا لا يمر فيه العجلة والأوقار لا يمنع وإن كان واسعا يمر فيه العجلة والأوقار يمنع كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصةاھ (1/ 87) واللہ أعلم بالصواب!
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0