السلام علیکم! مریض کو ڈاکٹر نے نمازکرسی پر پڑھنےکا کہاہے، رہنمائی فرمائیں کہ گھروالی کرسی پرنماز پڑھنا بہتر ہے یا جیسی مسجد میں ہوتی ہیں ویسی ہو، مریض قیام کرسکتا ہے رکوع نہیں تواب ساری نماز کرسی پر پڑھے یا رکوع کے وقت بیٹھے؟
مذکورشخص اگر زمین پر سرٹکا کر سجدہ کرنے اور رکوع کرنے سے عاجز ہو لیکن قیام پر قادر ہو تو اس کو چاہیےکہ قراءت باقاعدہ کھڑے ہوکرکرے، اور رکوع کا اشارہ کھڑے ہو کربھی کرسکتا ہے بیٹھ کربھی کرسکتا، تاہم رکوع اور سجدہ سے معذوری کی صورت میں زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، بلا عذر و مجبوری کرسی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، البتہ عذر و مجبوری کی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر بھی نماز پڑھنا جائز اور درست ہے، اور اس کےلیے کوئی بھی کرسی استعمال کی جاسکتی ہے۔
كما في الهندية: وإن عجز عن القيام والركوع والسجود وقدر على القعود يصلي قاعدا بإيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع، كذا في فتاوى قاضي خان حتى لو سوى لم يصح، كذا في البحر الرائق.
وكذا لو عجز عن الركوع والسجود وقدر على القيام فالمستحب أن يصلي قاعدا بإيماء وإن صلى قائما بإيماء جاز عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان.اه (ج ١ ص ١٣٦) ۔
وفي الدر: (وإن قدر على بعض القيام) ولو متكئا على عصا أو حائط (قام) لزوما بقدر ما يقدر ولو قدر آية أو تكبيرة على المذهب لأن البعض معتبر بالكل (وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما (ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه) اهـ ( ج ۲ ص ۹۷)۔