نجاسات اور پاکی

کپڑے دھونے کے بعد بھی اگر ناپاکی کےنشانات برقرار رہے تو کپڑا پاک ہوگا؟

فتوی نمبر :
35664
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کپڑے دھونے کے بعد بھی اگر ناپاکی کےنشانات برقرار رہے تو کپڑا پاک ہوگا؟

اگر نجاست کپڑوں پہ لگ جائے تھوڑی زیادہ نہیں اور ہم اس حصے کو دھولیں، لیکن اس کا رنگ دھونے کے بعد بھی نہ جائے،لیکن نجاست ہٹ جائے،تو کیا نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں ! جب دھونےسےنجاست کپڑے سے زائل ہوجائے تو ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز ہے،نجاست کا داغ
زائل ہونا ضروری نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (ولا يضر بقاء أثر) كلون وريح (لازم) فلا يكلف في إزالته إلى ماء حار أو صابون ونحوه، بل يطهر ما صبغ أو خضب بنجس بغسله ثلاثا والأولى غسله اھ (1/329)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیة: وازالتھا ان کانت مرئیة بازالة عینھا واثرھا ان کانت شیئا لایزول اثرھا فازالتھا بازالة عینھا ویکون مابقی عفواً وان کان کثیراً اھ (1/305)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35664کی تصدیق کریں
0     622
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات