اگر نجاست کپڑوں پہ لگ جائے تھوڑی زیادہ نہیں اور ہم اس حصے کو دھولیں، لیکن اس کا رنگ دھونے کے بعد بھی نہ جائے،لیکن نجاست ہٹ جائے،تو کیا نماز پڑھی جاسکتی ہے؟
جی ہاں ! جب دھونےسےنجاست کپڑے سے زائل ہوجائے تو ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز ہے،نجاست کا داغ
زائل ہونا ضروری نہیں۔
کما فی الدر المختار: (ولا يضر بقاء أثر) كلون وريح (لازم) فلا يكلف في إزالته إلى ماء حار أو صابون ونحوه، بل يطهر ما صبغ أو خضب بنجس بغسله ثلاثا والأولى غسله اھ (1/329)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیة: وازالتھا ان کانت مرئیة بازالة عینھا واثرھا ان کانت شیئا لایزول اثرھا فازالتھا بازالة عینھا ویکون مابقی عفواً وان کان کثیراً اھ (1/305)۔